لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 40

لُجَّةُ النُّور ۴۰ اردو ترجمہ في الرياء ، وما ارتقى قط فی کہ اس نے اپنی عمر ریا کاری میں صرف کر دی اور منبر الوعظ والنصيحة و وہ کبھی وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے منبر پر نہیں الدعوة، وما مثل بالذروة چڑھتا اور نہ مقام ارفع پر کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی وما بكى وما صاح عند اكتظاظ مسجد کے کھچا کھچ بھر جانے کے وقت روتا اور چلاتا الجامع بحفله، وما أرى هناك ہے اور نہ ہی بن بر سے گزر جانے والے خالی رَعْدَ جهامه وجَفْلِه، وما برز بادلوں کی طرح گرج دکھاتا ہے اور نہ ہی ائمہ کی خطيبا في أُهبة الأئمة، و طرح تیاری کر کے خطاب کے لئے آتا ہے اور نہ ما سلم على عصبة الحاضرين ہی خطاب شروع کرتے وقت حاضرین کی عند تأهب الخطبة، إلا و كان جماعت کو سلام کرتا ہے مگر اُس کا دل قسماقسم کی قلبه مملوا بأنواع الهوى خواہشات سے بھرا ہوتا ہے اور وہ اہل مجلس کو سخاوت وكان يستكفّ أكف الندى کے لئے ابھارتا ہے۔ اور وہ خطبہ کے شروع میں بالندى۔ وما قال : الحمد لله الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمُعْطِي “ (ہر قسم کی تعریف الله المعطى في بدو خطبته، إلا کے لئے ہے جو عطا کرنے والا ہے ) صرف اس لئے ترغيبا في العطاء و تشویقا پڑھتا ہے کہ اپنی جماعت کو عطا کرنے کی رغبت اور لعُصْبَتِه ۔ وما قال : الله الذى شوق دلائے اور وهُ اللَّهُ الَّذِي يَقْضِى يقضى الحاجات ويحسم الْحَاجَاتِ وَ يَحْسِمُ أَنْوَاعَ اللَّهِ وَآءِ “ (یعنی أنواع اللاواء ، إلا ليحث اللہ ہی ہے جو حاجات پوری کرتا ہے اور الحاضرين على الإعطاء انواع و اقسام کی سختیاں دور کرتا ہے ) صرف والإرواء ۔ وما قال إن الله اس لئے پڑھتا ہے تا کہ حاضرین کو سخاوت و يحب أهل السماح والجود فیاضی کی ترغیب دلائے اور وہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ والكرم، ويُهلك البخيلين أَهْلَ السِّمَاءِ وَ الْجُودِ وَ الْكَرَمِ وَيُهْلِكُ 66 كما أهلك عادًا وإِرَمَ الْبَخِيلِينَ كَمَا أَهْلَكَ عَادًا وَ إِرَمَ “