لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 141

لُجَّةُ النُّور ۱۴۱ اردو ترجمہ - التي تحشر عليها الأموات، جس پر مردے اٹھائے جائیں گے۔ اور جس سے وتُمحى بها الضلالات ۔ كَهَرَ گمراہیاں مٹائی جائیں گی۔ دن چڑھ آیا ہے پس الضحى فَلْيَرَ مَن يرى وإن الله دیکھنے والا دیکھ لے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ معنا وظله ظليل، وكل رداء ہے اور اس کا سایہ فراخ ہے ہم جو بھی چادر اوڑھتے نرتديه جميل۔ وإنا موفقون ہیں وہ خوبصورت لگتی ہے۔ ہم توفیق یافتہ ہیں ۔ ۱۳۲ تواتينا الأقلام، كأنها السهام قلمیں ہم سے موافقت کرتی ہیں گویا کہ وہ نیزے ومن عارضنا فهو ذليل، وليس ہیں۔ جو بھی ہمارے مقابل پر آئے گا وہ ذلیل له على دعواه دلیل ولن یزدھی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اپنے دعوی کی کوئی عَرَضُنا فإنه من نور العرفان، ولا دلیل ہے، ہماری متاع کبھی حقیر نہیں سمجھی جائے گی يداس عرضنا فإنه من عرض الله کیونکہ وہ عرفان کے نور سے ہے۔ اور ہماری وظل عزة ربنا المستعان ۔ رويد عزت کبھی پامال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اللہ کی عزت بنى قومى بعض الشحناء ، فإنكم سے وابستہ اور ہمارے مددگار خدا کی عزت کا ظل لا تستطيعون أن تحاربوا حضرة ہے۔ اے میری قوم کے بیٹو! اپنے بغض کچھ تو کم الكبرياء۔ وقد بلجت آیاتی کردو۔ کیونکہ تم یہا۔ یه استطاعت نہیں رکھتے کہ حضرت وظهرت علاماتي ۔ وإن الله أرغم كبرياء سے جنگ کر سکو۔ یقیناً میرے نشانات المعاطس بأى السماء ، واقتاد روشن ہو گئے اور میری علامات ظاہر ہوگئیں اللہ الشوامس بسوط بروقِ اليد تعالیٰ نے آسمانی نشانات سے ان کی ناکیں خاک البيضاء۔ وترون خیلنا شلن علی میں ملا دیں اور ید بیضاء کی چمک دمک کے کوڑے العدا كالبازي على العصفور، أو سے سرکش گھوڑوں کو مطیع کر لیا۔ اور تم دیکھتے ہو کہ الصقر على الغراب المذعور، ہمارے گھوڑے دشمنوں پر اس طرح جھپٹتے ہیں فركنوا إلى الإحجام، وكفوا جیسے باز چڑیا پر یا عقاب خوف زدہ کوے پر ۔ پس ألسنهم من استخفاف خير الأنام وہ پسپائی پر مجبور ہو گئے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ