لُجَّةُ النّوْر — Page 137
لُجَّةُ النُّور ۱۳۷ اردو ترجمہ يُطعنوا ويندغوا ۔ ويريدون أن بنایا جاتا اور کوڑے مارے جاتے ، یا انہیں نیزے مار يخوفونی و کیف مخافتی، و إن کر اور سخت کلامی سے مجروح کیا جاتا۔ وہ چاہتے ہیں هم إلا عوافتي ۔ يفسقون الناس کہ مجھے ڈرائیں، اور میں اُن سے کیوں کر ڈروں؟ وأنفسهم ينسون، ويكذبون وہ تو خود میرا شکار ہیں۔ وہ لوگوں کو فاسق قرار دیتے الصادقين ولا يخافون ۔ لا ہیں اور اپنے نفس کو بھول جاتے ہیں۔ وہ صادقوں کی يقومون في المضمار، ويُعدّون تکذیب کرتے ہیں اور ڈرتے نہیں ۔ وہ میدان میں لأنفسهم سبعين منفذا كالفأر کھڑے نہیں ہوتے اور چوہے کی طرح فرار ہونے ۱۲۸ للفرار ۔وكانوا أشهدوا الله علی کے لئے اپنے لیے ستر سوراخ تیار کرتے ہیں۔ كف اللسان وعاهدوه فما أسرع انہوں نے زبان بند رکھنے پر اللہ کو گواہ ٹھہرایا تھا اور ما نسوه ۔ وإن الكبر قد سرى في اُس سے عہد کیا تھا پس کتنی جلدی اُنہوں نے اُسے عروقهم وعظامهم وملأ بهلا ديا ۔ يقيناً کبر اُن کی رگوں اور ہڈیوں میں الشرايين، فما كان لهم أن سرایت کر چکا ہے اور شریانوں کو بھر چکا ہے پس ان يمتنعوا ولو حلفوا مغلظین کے بس میں نہیں کہ باز آجائیں۔ خواہ وہ پختہ وإنهم جمروا بعوثهم لحرب قسمیں کھائیں۔ انہوں نے آسمان والوں سے أهل السماء، وأغلظوالنا جنگ کرنے کے لئے سرحدوں پر لشکر جمع کئے ۔ ہم وتصدوا للاستهزاء ، وتجاهلوا پرسختی کی ، اور استہزاء سے پیش آئے اور علم ہونے بعد العلم وتعاموا بعد البصيرة، کے بعد دیدہ دانستہ جاہل بن گئے اور بصیرت کے فكأنهم قذفوا من حالق أو ماتوا بعد اندھے بن گئے گویا کہ وہ بلند جگہ سے پھینکے جائعين مع وجود الثمار الكثيرة ۔ گئے یا پھلوں کی فراوانی کے باوجود بھوکے مر گئے ۔ فلأجل ذالك سماهم رعاعا اسی وجہ سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وسقطا خاتم الأنبياء۔ بل قال نے انہیں سفلہ اور گھٹیا کا نام دیا۔ بلکہ آپ نے لا يوجد مثلهم شرا تحت فرمایا کہ بدی کے اعتبار سے آسمان کی چھت کے