لُجَّةُ النّوْر — Page 134
لُجَّةُ النُّور ۱۳۴ اردو ترجمہ الساحة ۔ وكما أن الفلاح يتوفّر رہتا ہے جیسے کسان کھیت سے ایک گنا توڑنے پر غضبا على نبش بَرِي من الريف غصہ سے بھڑک اٹھتا ہے۔ اور اکھیڑنے والے کو پکڑ ويأخذ الـنـابــش ویکسر بعض لیتا ہے اور بعض ہڈیاں توڑ دیتا ہے اسی طرح جو جرم الغضاريف، فكذالك إن لم انہوں نے سرکشی سے کیا ہو اس میں اگر کوئی انہیں يحسبهم أحد بريئين من جريمة بَری خیال نہ کرے اور اُن کے خلاف ایمانا گواہی فعلوها عدوانًا، ويشهد عليهم دے دے اور بیان میں ان کی مخالفت کرے تو وہ إيمانًا، ويخالفهم بيانًا، فيضربونه اُسے مارتے ہیں اور گروہوں کی صورت میں اور ويسقطون عليه زرافات اکیلے اکیلے بھی اس پر پل پڑتے ہیں ۔ اور اگر وہ ووحدانا، وإن غلبوا عند هذه ان جنگوں کے وقت مغلوب ہو جائیں تو ان المحاربات، فيندبون شياطينهم حوادث میں اپنے سرغنہ غنوں کو بھی مدد کے لئے بلا في النائبات، وقد علموا أن لیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو تعلیم یہ دی گئی تھی کہ ظلم کی يجزوا من الظلم غفرانا جزا مغفرت سے دیں اور بدی کی احسان سے۔ یہ ومن الإساءة إحسانًا ۔ فإنهم قوم وہ قوم ہیں جنہیں اخلاق کا نمونہ دکھانے کا حکم دیا أمروا بإراءة نموذج الأخلاق۔ گیا تھا مگر انہوں نے سوائے بدی اور دشمنی کی فما أروا إلا سِيَرَ الشرور خصلتوں کے کچھ نہیں دکھایا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں والشقاق ۔ فهم الذين سعوا جنہوں نے مجھے اذیت پہنچانے کے لئے بہت لإيذائي وجاوزوا حد الإقطاع، کوشش کی اور تیزی کی (ہر ) حد سے تجاوز کر گئے ۔ فليت لي بهم أعداء من السباع ۔ اے کاش! ان کی بجائے درندے میرے دشمن يأكلون لحم الغائب ولا يبارزون ہوتے یہ غیر حاضر کا گوشت کھاتے ہیں لیکن مقابلہ للمباراة ، كأنهم ظباء يخافون کے لئے باہر نہیں نکلتے ۔ گویا وہ ہرن ہیں جو تلوار کی حد الظبادة۔ يا حسرة على هذا تیز دھار سے ڈرتے ہیں۔ وائے حسرت اس الزمان أن الأمراء رغبوا فی زمانہ پر کہ امراء شراب ، موسیقی ، عورتوں اور