The Light of Truth — Page 44
44 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE يا قيصرة الهند ! صانَكِ الله عن الآفات، وكان لطفه معك فى كل إرادات الخيرات، وحفظك عن الدواهي والحادثات، جئناك مستغيثين بما أُوذينا من لسان رجل وكلمه المحفظات. وقد سمعنا أنـك تحليت بمحاسن الأخلاق، وتخليت في عدلك مما يصم بالأخلاق، وما زلت آخذةً نفسك بالرحم والإشفاق، ولا ترضى بجور الجائرين. هذا خُلُقك، ونحن - مع ظل حمايتك - تلدغ من شر بعض المعادين، ونُعَضُّ من أنياب العاصين، ويصول علينا كلُّ ضُلَّ بن ضُلَّ ويسُبُّ نبينا الكريم كلُّ جهولٍ مَهين، ويسعى أن نُعدّ من الباغين. وأما تفصيل هذا المجمل فاعلم يا قيصرة. تزايد إقبالك وبارك الله في دنياك وأصلح مالك. أن رجلا من الذين ارتدوا من دين الإسلام ودخلوا فى الملة النصرانية، أعنى النصراني الذي يُسمى نفسه القسيس عماد الدين، ألف كتابًا في هذه الأيام لخذع العوام، وسماه توزين الأقوال، وذكر فيه بعض حالاتی بافتراء بحت لا أصل له ، وقال إن هذا الرجل رجل مفسد ومن أهل العداوة، وإني وجدت في طريقة مشبه آثار البغاوة، وليس من تصحاء الدولة، وأتيقن أنه سيفعل كذا وكذا وأنه من المخالفين. فالملخص أنه حَقٌّ الحكومة في ذلك على إيذائي، ومع ذلك فرغ إناءه في سبى وازدرائي، وأفرغ اے قیصرہ ہند خدا تجھ کو آفتوں سے نگاہ رکھے اور ہر یک خیر کے ارادہ میں اس کا لطف تیرے ساتھ ہو اور خدا تجھ کو حوادث سے بچاوے ہم مستغیث بن کر تیرے پاس آئے ہیں کیونکہ ہم ایک شخص کی زبان اور اس کے رمجدہ کلمات سے ستائے گئے ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ تو نیک خلقوں سے آراستہ ہے اور اپنے عدل میں ان باتوں سے خالی ہے جن پر داغ عیب ہے اور رحم اور شفقت کو تو نے اپنے نفس کے لئے ایک خصلت لازمی ٹھہرا دی ہے اور ظلم کرنے والوں کے ظلم پر راضی نہیں۔ یہ تیرا خلق ہے اور ہم باوجود ظل حمایت تیری کے بعض دشمنوں کے نیش شرارت سے نیش زدہ اور ان کاٹنے والوں کے دانتوں سے کاٹے جاتے ہیں اور ہر یک ایسا شخص ہم پر ہم پر حملہ کرتا ہے جس کے باپ دادوں کو کوئی نہیں پہچانتا اور ہر ایک جاہل ذلیل ہمارے نبی کریم کی اہانت کر رہا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ہم باغیوں سے گنے جائیں۔ اور اگر اس مجمل کی تفصیل چاہو تو اے قیصرہ تیرا اقبال زیادہ ہو اور خدا تیری دنیا میں برکت دے اور تیرا انجام بھی بخیر کرے۔ تجھے معلوم ہو کہ ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے نکل کر عیسائی ہو گئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دکھو کہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام توزین الاقوال رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے کام کرے گا اور وہ مخالفوں میں سے ہے۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس شخص نے حکام کو میری میری ایزا کے لئے برانگیختہ بر انگیختہ کیا ہے اور . بختہ کیا ہے اور ساتھ اس کے مجھے گالیاں دینے اور تحقیر کرنے میں اس قدر مبالغہ کیا کہ جو کچھ اس کے برتن میں تھا سب باہر نکال دیا اور نیز اپنی