The Light of Truth — Page 28
28 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ومن علماء العرب ومن الصالحين. ووجدته طيب الأعراق كريم الأخلاق، مطهرة الفطرة لَوَذَعِيًّا الْمَعِيًّا ومن المتقين. فابتهجت بلقائه الذي كان مرادى ومدعائى وحسبته باكورة دعائي، وتفاءلت به بخير يأتي وفضل يحمى، وازدهانى الفرح وصرت يومئذ من المستبشرين، فهنيتُ نفسي هنالك وشكرت الله وقلت الحمد لك يا رب العالمين. وتفصيل ذلك أن شابا صالحا وَسِمًا جاءنى من بلاد الشام، أعنى من طرابلس، وقاده الحكيم العليم إلى ولبث عندى إلى سبعة أشهر، أعنى إلى هذا الوقت، فتوسّمت فيه الخير والرشد، ووجدت في ميسمه أنوار الصلاح، ورأيت فيه سمة الصالحين. ثم أمعنت فى حاله وقاله وتفحصت من ظاهره وباطن أحواله بنور أُعطى لى وإلهام قُذف في قلبي، فأنستُ حسن تقاته ورزانة حصاته، ووجدته رجلًا صالحًا تقيا راكلا على جذبات النفس وطاردها ومن المرتاضين. ثم أعطاه الله حظا من معرفتي فدخل في المبايعين. وقد انفتح عليه باب عجيب من معارفنا وألف كتابا وسماه إيقاظ الناس، وهو دليل واضح على سعة عمله، وحجة منيرة على إصابة رأيه، ويكفى لكل مُمار في مضمار. ولما أفضى في تأليف ذلك الكتاب جمع عنده كثيرا من كتب الحديث والتفسير، وفكر فكرا عميقا في كل أمر، فهو 1. سهو، والصحيح: «مطهر» الناشر اور پرہیز گار پا یا سو میں نے اس کی ملاقات سے جو میری عین مراد تھی خوش ہوا اور اپنی دعا کا پہلا پھل میں نے اس کو خیال کیا اور آنے والی خیر اور بچانے والے فضل کے لئے میں نے اس کو ایک نیک فال سمجھا اور کثرت خوشی نے مجھ کو ہلا دیا اور اس دن میں اُن لوگوں میں سے ہو گیا جو خوش ہوتے ہیں سو میں نے اپنے نفس کو اس وقت مبارک باد دی اور خدا کا شکر کیا اور کہا کہ اے تمام جہانوں کے خدا تیر اشکر ہے۔ اور اس مجمل بیان کی تفصیل یہ ہے کہ بلاد شام سے ایک جو ان صالح خوش رو میرے پاس آیا یعنی طرابلس سے اور حکیم و علیم اس کو میری طرف کھینچ لایا اور قریب سات مہینے کے یعنی اس وقت تک میرے پاس رہا اور میں نے فراست سے اس کے وجود کو باخیر دیکھا اور اس میں رشد پایا اور اس کے چہرہ میں صلاحیت کے انوار پائے اور صلحاء کے نشان پائے۔ پھر میں نے اس کے حال اور قال میں غور کی اور اس کے ظاہر اور باطن میں تفحص کیا اور اس نور اور الہام کے ساتھ دیکھا جو مجھ کو عطا کیا گیا ہے سو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ حقیقت میں نیک ہے اور متانت عقلی اس کو حاصل ہے اور آدمی نیک بخت ہے جس نے جذبات نفس پر لات ماری اور ان کو الگ کر دیا ہے اور ریاضت کش انسان ہے۔ پھر خدا نے اس کو کچھ حصہ میری شناخت کا عطا کیا سو وہ بیعت کرنے والوں میں داخل ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے ہماری معرفت کی باتوں میں سے ایک عجیب دروازہ اس پر کھول دیا اور اس نے ایک کتاب تالیف کی جس کا نام ایقاظ الناس رکھا اور وہ کتاب اس کے وسعت معلومات پر دلیل واضح ہے اور اس کی رائے صائب پر ایک روشن حجت ہے اور وہ کتاب ہر ایک مباحث کے لئے ہر ایک میدان میں کفایت کرتی ہے اور جب اس نے اس کتاب کا تالیف ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” نے زائد ہے۔ ناشر