The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 566

The Light of Truth — Page 466

466 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO هذه الآية، ويحسبون رؤيتها من أعظم السعادة. فما رأوها مع مساعى كثيرة وأنظار متتابعة أثيرة، ولو رأوها لذكروها عند ذكر هذه الأخبار وتدوين هذه الآثار. وأنت تعلم أن تأليفاتهم سلسلة متتابعة لا يغادر قرنا من القرون إلى زماننا الموجود المقرون، ومع ذلك لا تجد فيها أثرًا من ذكر وقوع هذه الآية. أفأنت تظن أنهم ما ذكروها من حُجب الغفلة؟ وإن كنت تزعم كذلك فهذا بهتان مبين. وكيف تظن هذا وأنت تعلم أنهم كانوا حريصين على جمع حوادث الزمان، ومجهشين بتدوين ما لحقها النيران، فمَن زعم أنه وقع في وقت من الأوقات، فقد تبع المفتريات، وآثر على قول رسول الله صلى الله عليه وسلم أراجيف الكاذبين. وها أنا أقول على رؤوس الأشهاد لجميع أهل البلاد، أنه من أنكر هذه الآية من ذوى شَنَآنٍ، فليس عنده من برهان، ولا يتكلم إلا من ظلم وعدوان، فإن عندنا شهادة كل زمان. الكتب موجودة، والمعاذير مردودة، وقد كتبنا هذا لإيقاظ النائمين. أيها الناس اقبلوا أو لا تقبلوا ، إن الآية قد ظهرت، والحجة قد تمت، ولن تستطيعوا أن تخرجوا لنا نظيرا آخر لهذا الخسوف والكسوف، فلا تُعرضوا عن آية الله الرحيم الرؤوف. وهذا آخر كلامنا في هذا الباب، ونشكر الله على تأليف هذا الكتاب، ونصلى على رسوله خاتم النبيين. وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين. پشت بعد پشت انتظار کر رہے تھے پس اگر اس کو کسی قرن میں پاتے تو ضرور اس کا ذکر کرتے اور فراموش نہ کرتے۔ کیونکہ وہ اس خبر ماثور کی تعظیم کرتے تھے اور اسکے انتظار میں دن اور مہینے گنتے تھے اور عشاق کی طرح اس کی انتظار کرتے تھے اور اس نشان کے دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے پس انہوں نے اپنے زمانوں میں اس نشان کو نہ دیکھا اور اگر دیکھتے تو ضرور اس کا ذکر کرتے اور تمہیں معلوم ہے کہ ان کی کتابیں مسلسل طور پر تالیف ہوتی چلی آئی ہیں مگر ان میں اس نشان کا کچھ ذکر نہیں کیا گیا۔ تیرا یہ ظن ہے کہ انہوں نے غفلت کی وجہ سے یہ ذکر چھوڑ دیا اگر تو ایسا ظن کرتا ہے تو تو نے بہتان باندھا اور کس طرح تو ظن کرتا ہے اور تو جانتا ہے کہ وہ لوگ حوادث زمانہ کے جمع کرنے پر بہت حریص تھے اور جو کچھ چاند اور سورج پر امور عارض ہوتے ان کے لکھنے کے لئے آمادہ رہتے تھے۔ پس جس شخص نے یہ زعم کیا ہے کہ یہ خسوف کسوف پہلے بھی واقع ہو گیا ہے اس نے مفتریات کی پیروی کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر جھوٹوں کی بات کو ترجیح دی ہے اور خبر دار ہو میں گواہوں کے روبرو کہتا ہوں کہ جو شخص ں اس نشان کا انکار کرے تو اس کے پاس کوئی دلیل نہیں اور محض ظلم سے بات کرتا ہے اور ہمارے پاس ہر زمانہ کی گواہی ہے کتابیں موجود ہیں اور جو عذر کئے گئے ہیں وہ مردود ہیں اور یہ رسالہ ہم نے سوئے ہوئے کو جگانے کے لئے لکھا ہے۔ اے لوگو تم قبول کرو یا نہ کرو بے شک نشان ظاہر ہو گیا اور حجت پوری ہو گئی اور تمہیں طاقت نہیں کہ اس کسوف خسوف کی کوئی اور نظیر پیش کر سکو پس خدا تعالیٰ کے نشانوں سے رو گردانی مت کرو اور یہ ہماری اس باب میں آخری کلام ہے اور ہم اس کتاب کی تالیف پر خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور آخری دعا یہ ہے کہ الحمد لله رب العالمین۔