The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 566

The Light of Truth — Page 22

22 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وردفها حصى التعصب، فسحقت الاستعدادات تحتها كالحديد تحت مطرقة القين، أو القطن تحت مطرقة الطارقين. والعجب منهم ومن عقلهم أنهم يرون بأعينهم أن كلماتهم الباطلة المضلة قد أضرت الإسلام إضرارًا عظيمًا، والناس باستماعها يخرجون من دين الله أفواجا ويلتحقون بالنصارى بما سمعوا من صفات المسيح وعصمته الخاصة وخلوده إلى هذا الوقت، وقدرته الكاملة في الخلق والإحياء على قدر ما وجد مثله في أحد من النبيين ويشاهدون هذه العلماء) هذه المفاسد كلها ثم لا يتنبهون، ولا يرتجف فؤادهم، ولا تذوب أكبادهم، ولا يأخذهم رحم ورقة على أمة النبي. ونبكي عليهم ونصرخ صرخة متموجة، فلا يسمع أحد بكاءنا ولا صراخنا، بل يكفروننا مغتاظين. وإنما مثلنا فى هذه الأيام أيام غربة الإسلام كمثل خابط في واد في الليلة المظلمة، أو صارخ في اللظى المضرمة، فلا نجد مُغيثًا من قومنا إلا الواحد الذي هو رب العالمين. وإنا يئسنا منهم غاية اليأس كأنا وضعناهم في قبورهم. قلنا مرارًا فما سمعوا، وأيقظنا إنذارًا فما استيقظوا، وخضعنا أطوارًا فما خضعوا، فقلنا اخسأوا خسئًا : إن الله غنى عنكم ولا يعبأ بكم ، وسيأتي بقوم ينصرون دينه ويحبّون الصادقين. فحاصل الكلام: إنى إذا رأيت هذه الأمراض والسموم ساريةً في عروق أكثر علماء الهند، ورأيتهم سنگریزے ان پر پڑے سو ان کی استعدادیں اس کے نیچے ایسی پیسی گئیں جیسا کہ لوہا لوہار کے ہتھوڑے کے نیچے پس جاتا ہے۔ یا روئی دھنئے کے دُھنکے کے نیچے ڈھنی جاتی ہے۔ اور ان پر اور ان کی عقل پر تعجب آتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ان کے کلمات باطلہ اسلام کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سن کر دین اسلام سے نکلتے جاتے ہیں اور نصاریٰ میں داخل ہوتے جاتے ہیں کیونکہ وہ مسیح کی عصمت خاصہ اور اس کا اب تک زندہ رہنا اور اس کی قدرت کاملہ خالقیت میں اور زندہ کرنے میں اس مبالغہ سے سنتے ہیں جس کی نظیر اور نبیوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور یہ مولوی لوگ ان تمام فسادوں کو دیکھ رہے ہیں پھر خبردار نہیں ہوتے اور ان کے دل نہیں کانپتے اور ان کے جگر نہیں پگھلتے اور ان کو امت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ بھی رحم نہیں آتا ہم ان پر گریہ کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں سو کوئی ہمارے گریہ کو نہیں سنتا اور نہ ہماری فریاد کو بلکہ وہ غصہ میں آکر کافر کافر کہتے ہیں۔ اور ہماری مثل ان دنوں میں جو غربت اسلام کے دن ہیں اس مسافر کی طرح ہے جو جنگل میں اور اندھیری رات میں بہکتا پھرتا ہے یا اس کی مثل جو بھڑکتی ہوئی آگ میں فریاد کر رہا ہے سو ہم کوئی فریاد رس اپنی قوم میں نہیں پاتے مگر وہی ایک جو رب العالمین ہے اور ہم ان لوگوں سے نہایت درجہ ناامید ہو گئے گویا ہم نے ان کو ان کی قبروں میں دفن کر دیا ہم نے بہت کہا مگر انہوں نے نہیں سنا ہم نے خوف دلانے کے لئے جگایا پر وہ نہ اٹھے ہم کئی مرتبہ جھکے پر وہ نہ جھکے آخر ہم نے کہا دور ہو جاؤ دفع ہو جاؤ خدا کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں اور وہ ایسی قوم لے آئے گا جو اس کے دین کے مددگار ہوں گے اور صادقوں سے پیار کریں گے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ جب میں نے یہ بیماریاں اور یہ زہریں اس ملک کے اکثر مولویوں میں دیکھیں جو