The Light of Truth — Page 20
20 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE صلى الله عليه وسلم ما أراد من قوله لا عَدْوَى نَفْى السراية من كل الوجه، وكيف وقد حذّر من المجذومين في حديث آخر . فما كان مراده من هذا القول من غير أن التأثيرات كلها بيد الله تعالى، ولا مؤثر فى هذا العالم الدائر بالكون والفساد إلا بحكمه وإرادته ومشيئته. وإذا أولنا كذلك فتخلضنا من شبهات المعترضين. والذي نفسي بيده. إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أراد قط في هذا المقام وأمثاله من نزول عيسى وغيره إلا معانى تأويلية * فلا تعجل ولا تُعِن فتن المفسدين. هذا هو القول الحق، فاقبلوا كلمة الحق ولو خرج من فم طفل، فإن السعادة كلها في قبول الحق، فطوبى للذين يقبلون الحق خاضعين. والذين عادونا فلا يقبلون الحق مع أنه ليس فيه دقة وإغماض، بل هم يعلمون في قلوبهم أنه الحق المبين. وإذا قيل لهم آمنوا بالحق الذي تبيّن، وبالمعاني التي حصحصت صحتها، قالوا أنؤمن بأمور تخالف أقوال أسلافنا؟ وإن كان أسلافهم من الخاطئين المخطئين؟ ونرى أنهم قد خُنقوا، وأن ثلوج البخل قد تساقطت على أرض قلوبهم بشدّتها ومداكاتها، فخنقت شَطَأها، ا. (الفائدة) لو كان المراد من نزول عيسى نزوله بذاته لقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه سيرجع وما قال انه سينزل فان لفظ الرجوع مناسب للذى يقدم بعد الذهاب . منه ارادہ نہیں کیا کہ من کل الوجوہ ایک کی مرض دوسرے میں سرایت نہیں کرتی اور کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہہ سکتے تھے جبکہ آپ نے ایک دوسری حدیث میں مجذوموں سے پرہیز کرنے کے لئے ممانعت فرمائی ہے اور ان کے چھونے سے ڈرایا پس آنحضرت صلعم کی اس حدیث سے بجز اس کے کوئی مراد نہیں تھی کہ تمام تاثیریں عدوی وغیرہ کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور بجز اس کے حکم اور ارادہ اور مشیت کے اس عالم کون اور فساد میں کوئی مؤثر نہیں اور جبکہ ہم نے یہ تاویل کی تو ہم نے اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں سے رہائی پائی اور مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ رسول اللہ صلعم نے اس مقام اور اس کے مشابہ دوسرے مقاموں میں جیسے نزول حضرت عیسے وغیرہ میں بجز تاویلی معنوں کے اور کبھی مراد نہیں لئے پس تم مفسدوں کے فتنوں کے مدد گار مت بنو۔ یہی سچی بات ہے سو سچ کو قبول کرو اور اگرچہ ایک بچہ کے منہ سے نکلا ہو کیونکہ تمام سعادت حق کے قبول کرنے میں ہے سو مبارک وہ لوگ جو حق کے قبول کرنے کے لئے جھک جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو ہم سے عداوت رکھتے ہیں وہ حق کو قبول نہیں کرتے باوجود یکہ کچھ اس میں دقت نہیں بلکہ وہ اپنے دلوں میں خود جانتے ہیں کہ وہ صریح اور صاف حق ہے۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ حق تو کھل گیا اب تم اس کو قبول کرو اور ان معانی پر ایمان لاؤ جن کا صحیح ہونا ثابت ہو گیا تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسی باتوں کو مان لیں جو ہمارے متقدمین کے اقوال کے مخالف ہیں اور اگرچہ ان کے متقدمین نے اپنی راؤں میں خطا ہی کی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ دبائے گئے ہیں اور بخل کی برفیں کثرت کے ساتھ اور شدت کے ساتھ ان کے دلوں پر گریں اور ان کے سبزہ کو دبا لیا اور پیچھے سے تعصب کے ا. اگر نزول عیسی سے مراد در حقیقت عیسی کا ہی آنا ہو تا تو آپ یہ فرماتے کہ واپس آئے گا نہ یہ کہ اترے گا کیونکہ جانے کے بعد جو شخص آوے اس کو واپس آنا کہتے ہیں نہ اترنا۔ منہ