The Light of Truth — Page 420
420 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO وكمال الطاعة، وأرضى به ربه بتحمل الأَذِيّة، فيعارض هذا العمل الذي كَسَبَه الشر الذي انعقد سببه، فيجعله الله من المحفوظين. وهذا من سنة الله أن الدعاء يرد البلاء ، ولا يلتقى دعاء وبلاء إلا وإنّ الدعاء يغلب بإذن الله إذا ما خرج من شفتى الأوابين، فطوبى للداعين. وإذا كان كسوف أحد من الشمس والقمر دالا على آفات الزمان، ومُوجِبَ أنواع البلايا والخسران، فما بال زمان اجتمع فيه كسوفان، فاتقوا الله يا معشر الإخوان، ولا تكونوا من الغافلين. لا يقال إن النيرين ينكسفان من أسباب أُثبِتَتْ بالبرهان، وفصلت في الكتب بتفصيل البيان، فما لها ولآفات تتوجه إلى نوع الإنسان، عند كثرة العصيان؟ لأن الأمر الذى مُثْبَتْ عند أولى العرفان هو أن الله خلق الإنسان ليدخله في المحبوبين المقبولين أو المردودين المطرودين. وجعل تغيرات العالم دالة على خيره وشره، ونفعه وضره، وجعل العالم له كمثل المبشرين والمنذرين؛ وكلما أراد الله من عذاب وتعذيب أهل الزمان، فلا ينزل إلا بعدما أذنبت أيدى الإنسان، وأصر عليه كإصرار أهل الطغيان واعتدى كالمجترئين. وقد جعل لكل شيء سببًا في العالمين، وجعل كل آية مخوّفة في خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ دعا کے ساتھ بلا کو رد کرتا ہے اور دعا اور بلا کبھی دونوں جمع نہیں ہوتیں مگر دعا باذن الہی بلا پر غالب آتی ہے جب ایسے لبوں سے نکلتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں سو دعا کرنے والوں کو خوشخبری ہو۔ اور جبکہ ایک گرہن ہی اس قدر آفتوں پر دلالت کرتا ہے تو اس زمانہ کا کیا حال جس میں دونوں گر ہن جمع ہو گئے ہوں سو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور غافل مت ہو۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن ان اسباب سے ہوتا ہے جو کتابوں میں درج ہیں۔ پس ان کو ان آفات سے کیا تعلق ہے جو انسان پر گناہوں کی شامت سے آتی ہیں ؟ کیونکہ عارفوں کے ارفوں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے کہ خ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کو محبوبوں میں یا مر دودوں میں داخل کرے اور اللہ تعالیٰ نے تمام تغیر عالم کے انسان کی خیر اور شر اور نفع اور ضرر پر دلالت کرنے والے پیدا کئے ہیں اور اس کے لئے تمام عالم کو مبشر اور مندر کی طرح بنا دیا ہے اور ہر یک وہ عذاب جو خدا تعالیٰ نے انسانوں کی سزا دہی کے لئے مقرر کیا ہے وہ قبل اس کے جو انسان گناہ کرے اور گناہ پر اصرار کرے اور حد سے گذر جائے نازل نہیں ہوتا۔ اور خدا تعالیٰ نے عالم میں ہر ایک شے کے لئے ایک سبب بنایا ہے اور ہر ایک ڈرانے والا نشان بدبختوں اور زیادتی کرنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے۔ اور وہ نشان ان کے لئے مبشر مبشر ہے جو وفا کے آستانہ پر اتر آئے اور صفا اور اصطفاء میں منقطع ہو کر نازل ہوئے۔ اور یہ