The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 566

The Light of Truth — Page 18

18 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE عليه أن بعض العلماء من السلف أو الخلف غلطوا في فهم أمر فليس من ديانته أن يتبع أغلاطهم، ويقبلها بغض البصر، ولا يفارقها بتفهيم مُفهّم، ويرسو عليها أبدًا، ولا يلتفت إلى الحق الذي حصحص والرشد الذي تبين. فإن أمرًا إذا ثبت فلا بد من قبوله ولا مفر منه. مثلا جاء في حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم «لا عَدْوَى» . أى لا تُجاوِزُ علةٌ من مريض إلى غيره، ولا يُعدى شيء شيئًا، ولكن التجارب الطبية قد أثبتت خلاف ذلك ، ونحن نرى بأعيننا أن بعض الأمراض، مثلا داء الجمرة التي يقال لها في الفارسية آتشك يُعدى من امرأة مُبتلاة بهذا المرض رجلا ينكحها وبالعكس. وكذلك نرى في عمل الإبرة الذى مبنى على خمير مادة مجدَّرٍ فإنه يُبدى آثار الجُدرى في المعمول فيه. فهذا هو العدوى، فكيف ننكره؟ فإن إنكاره إنكار علوم حسّية بديهية التي ثبتت عند مجربي صناعة الطب، وما بقي فيها شك للأطفال اللاعبين فى السكك فضلا عن رجال عاقلين. فلا بد لنا من أن نؤوّل هذا الحديث ونصرفه إلى معان لا تخالف الحقيقة الثابتة وإن لا نفعل كذلك فكأنا دعونا كل مخالف ليضحك علينا وعلى مذهبنا، فإذن أيدنا الساخرين. فنقول في تأويل هذا الحديث إن رسول الله کرے جو اس کا مخالف ہے اور جب دیکھے اور جب اس پر کھلے کہ بعض علماء سلف میں سے یا خلف میں سے کسی بات کے سمجھنے میں غلطی میں پڑ گئے ہیں تو اس کی دیانت سے بعید ہو گا کہ ان کی غلطیوں کی پیروی کرے اور آنکھ بند کر کے ان کو قبول کر لیوے اور کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے باز نہ آوے اور ہمیشہ انہیں غلطیوں پر اڑا رہے اور اس سچائی کی طرف جو کھل گئی اور اس ہدایت کی طرف جو ظاہر ہو گئی التفات نہ کرے کیونکہ جب ایک امر ثابت ہو گیا تو اس کے قبول کرنے سے چارہ نہیں اور اس سے کوئی گریز گاہ نہیں مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا عدوى یعنی ایک مرض دوسرے کو نہیں لگتی یعنی تجاوز نہیں کرتی ایک چیز دوسری تک لاکن طبی تجارب سے اس کے مخالف ثابت ہو گیا اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ بعض مرضیں مثلاً آتشک کی بیماری ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے اور ایک آتشک زدہ عورت سے مرد کو آتشک ہو جاتی ہے اور ایسا ہی مرد سے عورت کو اور یہی صورت ٹیکا لگانے میں بھی مشاہدہ ہوتی ہے کیونکہ جس پر چیچک والے کے خمیر سے ٹیکا کا عمل کیا جاوے اس کے بدن پر بھی آثار چیچک ظاہر ہو جاتے ہیں پس یہی تو عدویٰ ہے سو ہم کیوں کر اس کا انکار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا انکار علوم حسیہ بدیہیہ کا انکار ہے جو تجارب طبیہ سے ثابت ہو چکے ہیں اور ان میں ان بچوں کو بھی شک نہیں رہا جو کوچوں میں کھیلتے پھرتے ہیں چہ جائے کہ عقلمند مردوں کو کچھ شک ہو۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حدیث کی تاویل کریں اور ان معانی کی طرف پھیر دیں جو ثابت شدہ حقیقت کے مخالف نہیں اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو گویا ہم ایک مخالف کو بلائیں گے تا وہ ہم پر اور ہمارے مذہب پر ٹھٹھا کرے اور اس صورت میں ہم ٹھٹھا کرنے والوں کے مددگار ٹھہریں گے۔ پس ہم اس حدیث کی تاویل یوں کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول لا عدوی میں ہر گز یہ