The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 566

The Light of Truth — Page 16

16 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE رأسه مرة إنسانية ولحق بالأخسرين السافلين . ولا يقول أحد كمثل هذه الكلمات إلا الذي نسي طريق التوحيد ومال إلى الجاهلية الأولى، وما بلغ نظره إلى نتائجها الضرورية ومفاسدها المخفية، أوالذى رسا على جهله عمدًا وغرق فى لجة التقليد غرقًا، حتى فقد أثر حرية الإنسانية، وسقط في شبكة لا تخلص منها، وتابَعَ أَثَرَ إبليس اللعين. والذي آمن بالقرآن وألقى نفسه تحت هداياته فلن يرضى بمثل هذه العقائد، بل لا يسوغ له قول يُخالف القرآن بالبداهة ويُعارض بيناته ومحكماته صريحا. وأي ذنب أكبر من ذلك أن أحدًا يؤمن بالقرآن ثم يرجع ويُنكر بعض هداياته، ويتبع المتشابهات ويترك المحكمات، ويحرّف القرآن ويغيّر معانيه من مركزها المستقيم، ويؤيد بأقواله قوما مشركين؟ ولكن الذي تمسك بكتاب الله وآمن بما فيه صدقا وحقا، فأى حرج عليه وأي ضَيْرٍ إن ترك روايات أخرى التي تخالف بينات القرآن وليست ثابتة من رسول الله بثبوت قطعى يقيني الذي يُساوى ثبوت القرآن وتواتره، أو ترك مثلا معانى تُخالف نصوصه، واختار الموافق ولو بالتأويل؟ بل هذا من سير الصالحين المتقين ومِن سِير الصدّيقة رضى الله عنها أُم المؤمنين. فالواجب على المؤمن المسلم المتورع الذي يتقى الله حق التقاة، أن يعتصم بحبل الله القرآن ولا يبالى غيره الذي يخالفه، وإذا رأى وانكشف توحید کی راہ کو بھول گیا اور پہلی جاہلیت کی طرف مائل ہو گیا اور اس کی نظر ان عقیدوں کے لازمی نتیجوں اور چھپے ہوئے فسادوں تک نہیں پہنچ سکی یا وہ شخص ایسے کلمات کہے گا جو جہالت کی باتوں پر اڑ بیٹھا اور تقلید کے دریا میں غرق ہو گیا یہاں تک کہ انسانی آزادی کے نام و نشان کو کھو بیٹھا اور ایسے جال میں پھنس گیا جس میں سے نجات نہیں اور ابلیس لعین کے نشان قدم کا پیرو ہو گیا اور وہ شخص جو قرآن پر ایمان لایا اور اس کی ہدایتوں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا سو وہ ایسے عقائد پر کبھی راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی باتوں کو جو صریح قرآن کے مخالف اور اس کی محکم آیتوں کے کھلے کھلے معارض ہیں ناجائز سمجھے گا اور اس سے بڑھ کر اور کونسا گناہ ہو گا کہ ایک شخص قرآن پر ایمان لا کر پھر رجوع کرے اور اس کی بعض ہدایتوں سے انکاری ہو جائے اور متشابہات کی پیروی کرنے لگے اور محکمات کو چھوڑ دے اور قرآن کی تحریف کرے اور اس کے معانی کو ان کے مرکز مستقیم سے پھیر دے اور اپنی باتوں سے مشرکوں کو مدد دے مگر وہ شخص جس نے کتاب اللہ سے پنجہ مارا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب باتوں پر ایمان لایا اور سچ اور حق سمجھ لیا پس اس پر کونسا حرج اور کونسا مضائقہ ہے اگر وہ ایسی روایتوں کو چھوڑ دے جو قرآن کے کھلے کھلے بیانات کی مخالف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے قطعی اور یقینی طور سے ثابت نہیں جو قرآن کے ثبوت اور تواتر سے برابری کر سکے یا مثلاً کوئی ایسے معانی ترک کرے جو نصوص قرآنیہ کے مخالف ہیں اور وہ معنے اختیار کرے جو اس کے موافق ہیں اگرچہ تاویل سے ہی سہی بلکہ یہ تو نیک بختوں اور متقیوں کا طریق ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها مادر مومناں کے طریق اور خصلت میں سے ہے پس ایسے شخص پر جو مومن مسلمان پرہیز گار ہے اور خدا سے جیسا کہ حق ڈرنے کا ہے ڈرتا ہے واجب ہے۔ جو حبل اللہ سے جو قرآن ہے پنجہ مارے اور اس کے غیر کی کچھ پرواہ نہ