The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 566

The Light of Truth — Page 380

380 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO وأما تفصيل الشهادتين فهو أن هذا الكسوف الواقع في ٦ إبريل سنة ۱۸۹۴ء متفرد بطرائفه، ولم يُر مثله من قبل في كوائفه، وأشكاله عجيبة وأوضاعه غريبة، وهو خارق للعادة ومخالف للمعمول والسنة، فثبت ما جاء في القرآن وحديث خاتم النبيين. ولا شك أن اجتماع الخسوف والكسوف في شهر رمضان مع . هذه الغرابة أمر خارق للعادة. وإذا نظرت معه رجلا يقول إنى أنا المسيح الموعود والمهدى المسعود والملهم المرسل من الحضرة، وكان ظهوره مقارنا بهذه الآية، فلا شك أنها أمور ما سمع اجتماعها في أوّل الزمان، ومن ادعى فعليه أن يثبت وقوعه فى حين من الأحيان. ثم لما ظهرت هذه الآية في هذه الديار وهذا المقام، ولم يظهر أثر منها في بلاد العرب والشام، فهذه شهادة من الله العلام لصدق دعوانا يا أهل الإسلام، فقوموا فرادى، فرادى، واتركوا من بخل وعادى، ثم تفكروا ودَعُوا عِنادا، ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة ولا تفسدوا إفسادا، ولا تُعرضوا مستعجلين. يا عباد الله رحمكم الله اتقوا الله ولا تتكبروا، وفكروا وتدبروا ، أيجوز عندكم أن يكون المهدى فى بلاد العرب أو الشام، وآيته تظهر في هذا المقام؟ وأنتم تعلمون أن الحكمة الإلهية لا تُبعد الآية من أهلها وصاحبها ومحلها، فكيف يمكن أن يكون المهدى فى مغرب الأرض وآيته تظهر فى مشرقها؟ فكفاكم هذا إن كنتم من الطالبين. گواہیوں کی تفصیل یہ ہے کہ ان دونوں پرچوں میں لکھا ہے کہ یہ کسوف اپنے عجائبات میں متفرد اور غیر معمولی ہے یعنی وہ ایک ایسا کسوف ہے جو اس کی نظیر پہلے نہیں دیکھی گئی اور اس کی شکلیں عجیب ہیں اور اس کی وضعیں غریب ہیں اور وہ خارق عادت اور مخالف معمول اور سنت ہے۔ پس اس سے وہ غیر معمولی ہونا ثابت ہوا جس کا بیان قرآن کریم اور حدیث خاتم الانبیاء میں موجو د ہے اور کچھ شک نہیں کہ کسوف خسوف اس مہینہ رمضان میں اس غیر معمولی حالت کے ساتھ جمع ہونا ایک امر خارق عادت ہے اور جب کہ اس کے ساتھ تو نے ایک آدمی کو دیکھا جو کہتا ہے کہ میں مسیح موعود اور مہدی ہوں اور خسوف کسوف کے ساتھ اس کا ظہور مقارن ہے پس کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور ایسے ہیں جو پہلے کسی زمانہ میں جمع نہیں ہوئے جو انکار کرے اور ثابت کر کے دکھلاوے کہ کسی وقت پہلے اس سے یہ کسوف خسوف معہ مدعی مہدویت کے وقوع میں آچکا ہے۔ پھر جبکہ یہ نشان اسی ملک اور اسی مقام میں ظاہر ہوا اور بلاد عرب اور شام میں کچھ اس کا نشان نہ پایا گیا سو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے صدق دعویٰ پر ایک نشان ہے پس تم ایک ایک ہو کر کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص بخیل اور دشمن ہو اس کو چھوڑ دو پھر فکر کرو اور عناد کو چھوڑ دو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے تئیں ہلاک مت کرو اور جلدی سے کنارہ کش مت ہو جاؤ۔ اے بندگان خدا فکر کرو اور سوچو کیا تمہارے نزدیک جائز ہے که مهدی تو بلاد عرب اور شام میں پید اہو اور اس کا نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو اور تم جانتے ہو کہ حکمت الہیہ نشان کو اس کے اہل سے جدا نہیں کرتی پس کیونکر ممکن ہے کہ مہدی تو مغرب میں ہو اور اس کا نشان مشرق میں ظاہر ہو اور تمہارے لئے اس قدر کافی ہے اگر تم طالب حق ہو۔