The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 566

The Light of Truth — Page 374

374 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ليجدّد الدين ويعلم طرق الإيمان، ثم كان دعواه مُقارن هذه الآية من الحكيم الحنان، وجمع الله في أيام ادعائه الخسوفين في رمضان، صادقًا كان أو من الكاذبين. وإن لم تأتوا بمثله، ولن تأتوا أبدا، ولا تملكون إلا زبدا، فاعلموا أنه آية لى من الله الولى، هو ربّى أيدنى من عنده وعلمني من لدنه وتولاني، وفتح على أبواب علوم الذين خلوا من قبل وجعلني من الوارثين. ها أنتم كذبتم بآية الله وما استطعتم أن تأتوا بمثلها. ومنكم قوم صدقوا بعدما أمعنوا وحدقوا، فأي الفريقين أحق بالأمن يا معشر المستعجلين؟ ألا تخافون أنكم كذبتم حديث المصطفى وقد ظهر صدقه کشمس الضحى؟ أتستطيعون أن تُخرجوا لنا مثله في قرون أولى؟ أتقرءون في كتاب اسم رجل ادعى وقال إنّى من الله الأعلى، وانخسف في عصره القمر والشمس في رمضان كما رأيتم الآن؟ فإن كنتم تعرفونه فبينوا يا معشر المنكرين، ولكم ألف روبية من الورق المروّج إنعاما منى، فخُذوا إن تُثبتوا، وأُشهد الله على عهدى هذا، واشهدوا وهو خير الشاهدين. وإن لم تُثبتوا، ولن تثبتوا، فاتقوا النار التي أعدت للمفسدين. اور ایمانی طریقے سکھلاؤں۔ پس اس کا دعویٰ اس نشان کے ساتھ مقارن ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے زمانہ میں سورج گر ہن کر دے خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا۔ اور اگر تم اس کی مثل پیش نہ کر سکو اور ہر گز نہ پیش کر سکو گے اور بجز جھاگ کے اور تمہارے پاس کچھ نہیں ہو گا۔ پس جانو کہ وہ میرے لئے خدائے قریب سے ایک نشان ہے۔ وہ میر ا رب ہے۔ اس نے اپنے پاس سے میری مدد کی اور مجھے دوست پکڑا اور اس نے مجھ پر ان راستبازوں کے علوم کھول دیئے جو پہلے گزرے ہیں اور مجھے وارثوں میں سے کیا۔ خبر دار تم نے خدا تعالیٰ کی آیتوں کو تو جھٹلایا اور تکذیب بھی کی مگر اس نشان کی نظیر پیش نہ کر سکے بعض تم میں سے وہ ہیں جنہوں نے غور کرنے کے بعد تصدیق کی پس اے جلد بازو سوچو اور غور کرو کہ ان دونوں گروہوں میں سے قریب تر با امن کونسا گروہ ہے۔ کیا تم ڈرتے نہیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو جھٹلایا حالانکہ اس کا صدق چاشت گاہ کے آفتاب کی طرح ظاہر ہو گیا۔ کیا تم اس کی نظیر پہلے زمانوں میں سے کسی زمانہ میں پیش کر سکتے ہو کیا تم کسی کتاب میں پڑھتے ہو کہ کسی شخص نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور پھر اس کے زمانہ میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا جیسا کہ اب تم نے دیکھا۔ پس اگر پہچانتے ہو تو بیان کرو اور تمہیں ہزار روپیہ انعام ملے گا اگر ایسا کر دکھاؤ۔ پس ثابت کرو اور یہ انعام لے لو اور میں خدا تعالیٰ کو اپنے اس عہد پر گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو اور خدا سب گواہوں سے بہتر ہے۔ اور اگر تم ثابت نہ کر سکو اور ہر گز ثابت نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو مفسدوں کے لئے طیار کی گئی ہے۔