The Light of Truth — Page 14
14 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE قال الله تعالى عند ذكر هذه القصة فيصير حيا بإذن الله»، بل قال، فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ الله ، فانظروا لفظ «فيَكُونُ» ولفظ « طَيْرًا»، لِمَ اختارهما العليم الحكيم وترك لفظ «يصير» و «حيا»؟ فثبت من ههنا أن الله ما أراد ههنا خلقًا حقيقيا كخلقه عزّ وجل. و يؤيده ما جاء في كتب التفسير من بعض الصحابة أن طير عيسى ما كان يطير إلا أمام أعين الناس، فإذا غاب سقط على الأرض ورجع إلى أصله كعصا موسى، وكذلك كان إحياء عيسى، فأين الحياة الحقيقى؟ فلأجل ذلك اختار الله تعالى في هذا المقام ألفاظًا تناسب الاستعارات ليشير إلى الإعجاز الذي بلغ إلى حد المجاز، وذكر مجازا ليبين إعجازًا، فحمله الجاهلون المستعجلون على الحقيقة، وسلكوه مسلك خَلق الله من غير تفاوت، مع أنه كان من نفخ المسيح وتأثير روحه من غير مقارنة دعاء ، * فهلكوا وأهلكوا كثيرا من الجاهلين. والقرآن لا يجعل شريكا في خلق الله أحدًا ولو فى ذباب أو بعوضة، بل يقول إنه واحد ذاتا وصفاتا، فاقرءوا القرآن كالمتدبرين. فالأمر الذي ثبت عقلا ونقلا واستدلالا لا يُنكره أحد إلا الذي ما بقى في ۱. آل عمران : ۵۰ الناشر ۲. (الفائدة) كان الاحياء بالنفخ كالاماتة بالنظر . پھونک سے زندہ کرنا ایسا تھا جیسے نظر سے مارنا۔ منہ دوو 1 که فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ ' سو لفظ فيكون اور لفظ طیراً میں غور کرو کہ کیوں اس علیم حکیم نے انہیں دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ فیصیر حیا کو چھوڑ دیا سو اس جگہ ثابت ہوا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ عزوجل کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالقیت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات کرتے ہیں جو بعض صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ عیسیٰ کا پرندہ اسی وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا تھا اور جب غائب ہوتا تھا تو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے عصا موسیٰ کا اور عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا سو اس جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی سو اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس مقام میں وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب حال تھے تا کہ اس اعجاز کی طرف اشارہ کرے جو مجاز کی حد تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو خارق عادت تھا بیان فرمادے پس اس مجاز کو جاہلوں نے حقیقت پر حمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو الہی پیدائش کا مرتبہ ہے حالانکہ وہ صرف نفخ مسیح اور اس کی روح کی تاثیر سے تھا اور اس کے ساتھ کوئی دعا نہیں تھی سو ایسے سمجھنے والے ہلاک ہوئے اور بہتوں کو جاہلوں میں سے ہلاک کیا۔ اور قرآن تو کسی کو خدا کی خالقیت میں شریک نہیں کرتا اگرچہ ایک مکھی بنانے یا ایک مچھر بنانے میں شراکت ہو بلکہ وہ کہتا ہے که خدا ذاتاً و صفاتاً واحد لا شریک ہے سو تم قرآن کو ایسا پڑھو جیسا کہ تدبر کرنے والے پڑھتے ہیں۔ سو جو امر عقلاً و نقلا و استدلالا ثابت ہو گیا۔ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا بجز ایسے شخص کے جس کے سر میں انسانی دانشمندی کا مادہ نہیں رہا اور زیاں کاروں اور تحت الثریٰ جانے والوں کے ساتھ جا ملا۔ اور ایسی باتیں کوئی منہ پر نہیں لائے گا مگر وہی جو ۱. آل عمران: ۵۰ ناشر