The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 566

The Light of Truth — Page 370

370 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ظهور صدقها؟ وإذا حصحص الصدق فلا يشك إلا من كان من قوم عادين. وهذا أمر لا يحتاج إلى التوضيح والتعريف، ولا يخفى على الزكي الحنيف، وعلى كل من أمعن كالمتدبرين. ثم اعلم يا ذا العينين أن لفظ النصف لفظ ذو معنين فكما أن لفظ الأوّل يدل على أول وقت الليلة بالمعنى المعروف، ومع ذلك على ليلة أولى من أيام الخسوف، فَكَذَلِكَ لفظ النصف يدل على نصف ثان من نصفي الشهر الموصوف، ومع . ذلك على وقت منصف لأيام الكسوف، وهو أول نصفى النهار في الثامن والعشرين. وأما أيام الكسوف من مولى علام فاعلم أنها عند أهل النجوم ثلاثة أيام، وهي من السابع والعشرين من الشهر القمرى إلى التاسع والعشرين، وتنكسف الشمس في أحد منها عند اقتران القمر على شكل خاص بعد تحقق اختصاص، كما شهدت عليه تجارب المنجمين. فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم خير الأنام أن الشمس تنكسف عند ظهور المهدي في النصف من هذه الأيام، يعنى الثامن والعشرين قبل نصف النهار، وكذلك ظهر كما لا يخفى على أولى الأبصار. فانظر كيف تمت كلمة نبينا صدقًا وعدلا ، فاتق الله ولا تكن من الممترين. ومن ههنا بان أن الذي کریں گے جو حد سے بڑھتے ہیں۔ اور یہ وہ امر ہے جو توضیح اور تعریف کا محتاج نہیں اور زیرک مسلمان پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور نہ اس شخص پر جو امعان نظر اور تدبر سے دیکھے۔ پھر اے دو آنکھوں والے جان کہ نصف کا لفظ حدیث میں ذو معنین ہے پس جیسا کہ لفظ اول جو حدیث میں ہے معنے معروف کے لحاظ سے اول وقت رات پر دلالت کرتا ہے اور ساتھ اس کے خسوف کی پہلی رات پر بھی دلالت کرتا ہے۔ سو اسی طرح حدیث میں نصف کا لفظ ہے جو دوسرے نصف پر مہینہ کے دو نصفوں میں سے دلالت کرتا ہے اور ساتھ اس کے سورج گرہن کے اس وقت منصف پر دلالت کرتا ہے جس نے کسوف کے دنوں کو اپنے وقوع سے نصفا نصف کر دیا اور وہ رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ دو پہر تک تھی اور کسوف کے دنوں کی بابت اگر سوال ہو تو جاننا چاہیئے کہ اہل نجوم کے نزدیک تین ہیں یعنی ستائیس سے انیس تاریخ تک اور کسوف یعنی سورج گرہن کسی تاریخ میں ان تاریخوں میں سے اس وقت ہوتا ہے کہ جب شکل خاص پر اقتران قمر ہو جیسا کہ نجومیوں کے تجارب اس پر گواہی دیتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہو گا یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دو پہر سے پہلے اور اسی طرح پر ظاہر ہوا جیسا کہ آنکھوں والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس دیکھ کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کیسی ٹھیک ٹھیک پوری ہو گئی پس خدا سے ڈر اور شک کرنے والوں میں سے مت ہو اور اس جگہ سے یہ بات کھل گئی کہ جس شخص نے اس کے مخالف بیان کیا ہے اور ایسا سمجھا کہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ سورج گرہن ستائیسویں تاریخ میں ہو یا