The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 566

The Light of Truth — Page 368

368 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO الفاسقين. وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ . أو كان مُعين روايات الكاذبين؟ أفأنت تشهد أن الدارقطني وجميع روايات هذا الحديث وناقلوه في كتبهم وخالطوه في الأحاديث من أول الزمان إلى هذا الأوان كانوا من المفسدين الفاسقين وما كانوا من الصالحين؟ وأنت تجد كتب القوم مملوةً من الحديث الذي سميته موضوعًا في مقالك مع زيادة علمهم منك ومن أمثالك، ومع زيادة اطلاعهم على حقيقة اشتبهت على خيالك، فلا تتبع جذبات نفسك وفكر كالمتقين. أفأنت تشك في حديث حصحصت صحته وتبينت طهارته أنه ضعيف في أعين القوم، أو هو مورد اللؤم، أو فى رواته أحد من المطعونين؟ أفذلك مقام الشكّ أو كنت من المجنونين؟ وقد صدقه الله وأنار الدليل، وبرأ الرواة مما قيل، وأرى نور صدقه أجلى وأصفى، فهل بقى شك بعد إمارات عظمى؟ أتشكون في شمس الضحى؟ أتجعلون النُّور كالدجى ؟ أتعاميتم أو كنتم من العمين؟ أتقبلون شهادة الإنسان ولا تقبلون شهادة الرحمن وتسعون معتدين؟ أأنت تعتقد أن الله يُظهر على غيبه الكذابين المفترين المزوّرين؟ أ تشك في الأخبار بعد ١. الانعام : ٢٢ الناشر وہ تیرے نزدیک صالح ہیں نہیں بلکہ اول درجہ کے فاسق ہیں اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا جھوٹوں کی روایتوں کا مددگار ہے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ دار قطنی اور تمام راوی اس حدیث کے اور تمام وہ لوگ جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا اور حدیثوں میں ملایا اول زمانہ سے اس زمانہ تک مفسد اور فاسق ہی گذرے ہیں اور صالح آدمی نہیں تھے اور تو قوم کی کتابوں کو اس حدیث سے پر پائے گا جس کا نام تو موضوع رکھتا ہے باوجود اس کے جو ان کا علم تجھ سے اور تیرے ہم مثل لوگوں سے زیادہ ہے اور پھر وہ تجھ سے زیادہ تر اصل حقیقت پر اطلاع رکھتے ہیں پس تو اپنے نفس کے جذبات کا طالب نہ ہو اور نیک بخت بن جا۔ کیا تو اس حدیث میں شک کرتا ہے جس کا صحیح ہونا کھل گیا اور جس کی پاکیزگی ظاہر ہو گئی ہے کہ وہ قوم کی نظر میں ضعیف ہے یا وہ ملامت کی جگہ ہے اور یا اس کے راویوں میں سے کون مطعون ہے۔ کیا یہ مقام شک کا ہے یا تو دیوانوں میں سے ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے اس حدیث کی تصدیق کی ہے اور راویوں کو الزامات سے بری کیا ہے اور اس حدیث کی سچائی کے نور کمال صفائی اور روشنی سے دکھائے ہیں۔ پس کیا ایسے بڑے نشانوں کے بعد شک باقی رہ گیا کیا تم چاشت کے سورج میں شک کرتے ہو کیا تم نور کو اندھیرے کی طرح ٹھہراتے ہو کیا تم بتکلف نابینا بنتے ہو یا حقیقت میں اندھے ہو کیا تم انسان کی گواہی قبول کرتے ہو اور رحمان کی قبول نہیں کرتے اور حد سے بڑھ کر دوڑتے ہو کیا تو اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے غیب پر ایسے لوگوں کو اطلاع دیتا ہے جو کذاب اور مفتری اور مزور ہیں کیا تو ان خبروں میں شک کرتا ہے جس کا صدق ظاہر ہو گیا اور جب صدق ظاہر ہو گیا تو صرف وہی لوگ شک