The Light of Truth — Page 366
366 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO القرآن، فلا ينكره إلا الملحد الفتان، ولا يكذبه إلا من كان من الظالمين. وقال المعاندون والعلماء المتعصبون إن هذا الحديث ليس بصحيح، بل هو قول كذاب وقيح وما لهم بذلك من علم، كبرت كلمة تخرج من أفواههم، إن يقولون إلا كذبا، وكذبوا ما أظهر الله صدقه وجلّى، ما كان حديثًا يُفترى، ولكن عميت عليهم وطبع على قلوبهم طبعًا. يا حسرةً عليهم لم ينكرون الحق معاندين؟ ما لهم لا يتقون يوم الدين؟ ما لهم لا يفكرون في أنفسهم أنه حديث قد أنار صدقه، ولا يصدق الله قول الكذابين؟ وما كان الله ليُطلع على غيبه كاذبًا دجّالا عدو الصادقين، وقد علمت ما جاء في كتاب مبين وكيف يكذبونه وإن ظهور صدقه يشهد بشهادة واضحة أنه كلام رسول صدوق أمين. وكان الإمام محمد الباقر من أئمة المهتدين وفلذة الإمام الكامل زين العابدين. وفي سلسلة الحديث رجال من الصادقين الذين كانوا يعرفون الكاذبين وكذبهم وما كانوا مستعجلين. وما كان لهم أن يكتبوا حديثا في صحاحهم وهم يعلمون أنه لا أصل له ، بل في رواته رجل من الكذابين الدجالين. أخلطوا الخبيث بالطيب بعد ما كانوا على خُبثه مستيقنين؟ وإن كان هذا هو الحق فما بال الذين خلطوا قدرًا بالماء المعين متعمدين وهم كانوا أوّل عالم بأحوال الرواة المفترين. أهم صلحاء عندكم؟ كلا بل هم أول کے کوئی مکذب نہ ہو گا اور متعصب معاندوں اور متعصب مولویوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ وہ کسی جھوٹے بے شرم کا قول ہے اور ان مولویوں کے پاس اس تکذیب پر کوئی دلیل نہیں بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے سراسر جھوٹ کہتے ہیں اور انہوں نے اس حدیث کی تکذیب کی جس کی خدا تعالیٰ نے سچائی ظاہر کر دی یہ حدیث ایسی نہیں جو انسان کا افتر اہو سکے لیکن ان کی بینائی جاتی رہی اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ان پر حسرت ہے کیوں وہ معاند بن کر حق سے انکار کرتے ہیں کیوں جزا سزا کے دن سے نہیں ڈرتے کیوں نہیں سوچتے کہ یہ ایک حدیث ہے جس کی سچائی ظاہر ہو گئی اور خدا تعالیٰ جھوٹوں کے قول کو کبھی سچا نہیں کرتا اور خدا ایسا نہیں کہ جھوٹے دجال کو جو سچوں کا دشمن ہے اپنے غیب پر مطلع فرماوے اور اس بارے میں جو کچھ قرآن میں ہے تجھے معلوم ہے اور کیونکر انکار کرتے ہیں حالانکہ پیشگوئی کا سچا ہو جانا صاف گواہی دے رہا ہے کیونکہ حدیث رسول صادق امین کی ہے۔ اور امام محمد باقر ہدایت یافتہ اماموں میں سے اور امام زین العابدین کا گوشہ جگر تھا اور نیز حدیث کے سلسلہ میں سچے آدمی موجود ہیں ایسے آدمی جو جھوٹوں اور ان کے جھوٹ کو شناخت کرتے تھے اور جلد باز نہیں تھے اور یہ ان سے بعید تھا کہ وہ ایک حدیث کو اپنے صحاح میں داخل کرتے باوجود اس بات کے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ حدیث بے اصل ہے اور اس کے بعض راوی کذاب اور دجال ہیں کیا انہوں نے خبیث کو طیب سے ملا دیا بعد اس بات کے کہ وہ خبیث کے خبث پر یقین ر ، پر یقین رکھتے تھے اور اگر یہی سچ ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہے جنہوں نے پلیدی کو آب صاف کے ساتھ ملا دیا اور وہ مفتریوں کے حالات سے خوب واقف تھے کیا