The Light of Truth — Page 364
364 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO فثبت من هذا التحقيق اللطيف أنّ لفظ النصف الذي جاء في حديث الإمام التقى العفيف، ليس المراد منه كسوف الشمس فى نصف ذلك الشهر الشريف كما فهمه بعض من ذوى الرأى الضعيف وأصروا عليه كالغبي السخيف والمعاند العتريف، وما فكروا كالعاقلين المنصفين، بل المراد من قوله وتنكسف الشمس في النصف منه أن يظهر كسوف الشمس منصّفًا أيام الانكساف، ولا يجاوز نصف النهار من يوم ثان فإنه هو حدّ الإنصاف فكما قدّر الله انخساف القمر في أول ليلة من أيام الخسوف، كذلك قدر انكساف الشمس فى نصف من أيام الكسوف، ووقع كما قدّر كما أخبر خير المخبرين. فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ . وهذا نبأ عظيم من أنباء الغيب وأرفع من مبلغ العقول، فلا شك أنه حديث من خير المرسلين، وله طرق أخرى تشهد على صحته * وصدقه ا. الجن: ۲۷، ۲۸ الناشر ٢. الحاشية : قد عرفت ان خبر اجتماع الخسوف والكسوف موجود في القرآن الكريم وجعله الله من امارات النبأ العظيم ويوجد هذا الحديث في كتب اهل التشيع كما يوجد في كتب اهل السنة ووجدنا كل حزب عليه متفقين وكذلك جاء في صحف اشعيا النبي في الاصحاح الثالث عشر و في كتاب يوئيل النبي في الاصحاح الثاني وفي انجيل متى فى الاصحاح الرابع والعشرين ولا حاجة الى التفصيل فان الكتب موجودة فاقرء ها كالمتدبرين منه سو اس تحقیق لطیف سے ثابت ہوا کہ جو لفظ نصف کا جو حدیث امام باقر میں آیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سورج گر ہن اس مہینہ کے نصف میں ہو گا جیسا کہ بعض ضعیف الرائے آدمیوں نے سمجھا اور اس پر ایسا ہی اصرار کیا کہ جیسے ایک غبی کم عقل یا معاند گستاخ اصرار کرتا ہے اور عقلمندوں اور منصفوں کی طرح نہیں سوچا بلکہ اس کا یہ قول کہ سورج گر ہن اس کے نصف میں ہو گا اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن ایسے طور سے ظاہر ہو گا کہ ایام کسوف کو نصفا نصف کر دے گا اور کسوف کے دنوں میں سے دوسرے دن کے نصف سے تجاوز نہیں کرے گا کیونکہ وہی نصف کی حد ہے پس جیسا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کیا کہ گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں چاند گرہن ہو ایسا ہی یہ بھی مقدر کیا کہ سورج گرہن کے دنوں میں سے جو وقت نصف میں واقع ہے اس میں گرہن ہو سو مطابق خبر واقع ہوا اور خدا تعالیٰ بجز ایسے پسندیدہ لوگوں کے جن کو وہ اصلاح خلق کے لئے بھیجتا ہے کسی کو اپنے غیب پر اطلاع نہیں دیتا۔ پس شک نہیں کہ یہ حدیث پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو خیر المرسلین ہے اور اس حدیث کے لئے اور بھی طریق ہیں جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں * اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے پس بجز ملحد فتنہ انگیز کے اور کوئی انکار نہیں کرے گا اور بجز ظالم ا تجھے معلوم ہے کہ اجتماع خسوف و کسوف کی خبر قرآن میں موجود ہے اور خدا تعالیٰ نے قیامت کی نشانیوں میں سے اس کو ٹھہرایا ہے اور شیعہ کی کتابوں میں خبر ایسی ہی پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ سنت و جماعت کی کتابوں میں اور ہم نے ہر ایک گروہ کو اس پر متفق پایا اور اشعیا نبی کی کتاب ۱۳ باب اور یوٹیل نبی کی کتاب کے دوسرے باب اور انجیل متی کے ۲۴ باب میں یہ خبر موجود ہے تفصیل کی حاجت نہیں کرتا ہیں موجود ہیں سوتدبر سے دیکھو۔ منہ