The Light of Truth — Page 358
358 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO من غير دواع كاشفة الخفاء، بل فتشوا الحقيقة واعرفوا الطريقة بحسن النيات، ولا تلاعبوا كالصبيان بالأمور الدينيات وأى حرج عليكم أن تقبلوا ما بان كالبديهات وتتركوا طرق الأكاذيب والتمويهات؟ وإنني ناصح أمين، ويرانى ربى عالم المخفيات، عارف الصادقين والكاذبين. عَلَى أَنَّني رَاضٍ بِأَنْ أُظْهِرَ الْهُدَى وَأُلْحَقَ بِالدَّجَّالِ ظُلْمًا مِنَ الْعِدَى فالتأويل الصحيح والمعنى الحق الصريح أن المراد من خسوف أول ليلة رمضان أن ينخسف القمر في ليلة أولى من ليال ثلاث يكمل نور القمر فيها وتعرف أيام البيض، ولا حاجة إلى البيان ومع ذلك إشارة إلى أن القمر إذا خسف فى الليلة القمراء الأولى فينخسف فى أول وقتها لا بعد مرور زمان * 1. جاء في بعض الروايات من بعض قليل الدرايات ان الشمس تنكسف في اول ليلة رمضان ولا يخفى ان هذا امر بديهى البطلان واعجبنى شان تلك الرواة الم يكن لهم نظرا الى البديهيات الم يعلموه ان كسوف الشمس لا يكون فى الليل بل فى النهار واذا طلعت الشمس فاين الليل يا ذوى الابصار. منه غنیمت ہے اور بد بختوں میں سے مت بنو اور چاہے کہ تمہارے وہم الفاظ کی طرف جھک نہ جائیں اور ایسے امور سے دور نہ جاپڑیں جو پوشیدہ امور کو کھولتے ہیں اور نیک نیت کے ساتھ راہ کو پہچان لو اور دینی امور سے بچوں کی طرح بازی مت کرو اور تم پر کون حرج وارد ہوتا ہے اگر تم اس امر کو قبول کر لو جو کھل گیا ہے اور جھوٹ اور تلبیس کی راہ کو چھوڑ دو اور میں تمہارے لئے ناصح امین ہوں اور میر ارب عالم المخفیات مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ صادقوں اور کا ذبوں کو پہچانتا ہے۔ اور ان سب باتوں کے ساتھ میں راضی ہوں کہ اور دشمنوں کے ظلم سے دجال کے ساتھ ہدایت کو ظاہر کروں ملایا جاؤں پس تاویل صحیح اور معنی حق صریح یہ ہیں کہ یہ فقرہ کہ خسوف اول رات رمضان میں ہو گا اس کے معنے یہ ہیں کہ ان تین راتوں میں سے جو چاندنی راتیں کہلاتی ہیں پہلی رات میں گرہن ہو گا اور ایام بیض کو تو جانتا ہے حاجت بیان نہیں اور ساتھ اس کے اس بات کی طرف بھی اشارت ہے کہ جب چاند گرہن پہلی چاندنی رات میں ہو گا تو رات کے شروع ہوتے ہی ہو جائے گا نہ یہ کہ کچھ وقت گزر کر ہوا * جیسا کہ ایک دانا صاحب معرفت کے نزدیک یہ بات ظاہر ہے اور اسی طرح چاند ☆. 1 بعض کم فہم نے بعض روایات میں لکھ دیا ہے کہ سورج گرہن پہلی رات رمضان با رمضان میں ہو گا حالانکہ یہ امر بدیہی البطلان ہے او ہے اور ان راویوں کے حال سے مجھے تعجب آتا ہے کیا بدیہیات کی طرف بھی انہیں نظر نہیں تھی کیا وہ جانتے نہیں تھے کہ سورج گرہن رات کو نہیں ہوا کر تا بلکہ دن کو ہوتا ہے اور جب سورج چڑھا تو پھر رات کہاں ہے آنکھوں والو۔