The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 566

The Light of Truth — Page 356

356 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ويختار رقيقًا سَقْطًا غلطا غير المختار، بل يخالف مُسلَّماتِ القوم ومقبولات بلغاء الديار، ويصير ضحكة الضاحكين؟ ووالله ما يصدر هذا الخطأ المبين والعثار المهين من فطنة خامدة وروية ناضبة، فكيف يصدر من فارس ذلك الميدان، بل سيّد الفرسان؟ ما لكم لا تنظرون عزة الله ورسوله يا معشر المجترئين؟ أبخلكم أحبُّ إليكم وأعز لديكم من خاتم النبيين؟ ألا تعرفون أن هذا اللفظ في هذا المحل منكر مجهول لا يُعرف استعماله في كلمات أهل اللسان، وما أورده قط بليغ ولا غير بليغ في موارد البيان، وما أخذه عند اضطرار غبى حاطب ليل، فكيف سلطان الفصاحة وسيّد خَيلٍ؟ وقد سُبِرَ بذلك غور عقلكم ومقدار نقلكم ومبلغ علمكم وفضلكم وحقيقة أدبكم وحديقة حديكم، فإنكم عزوتم إلى سيد الأنبياء ما لا تُعزى إلى جهول من الجهلاء، تكاد السماوات تنشق من هذا الاجتراء، فاتقوا الله ذا الكبرياء، ولبوا دعوة الحق تلبية أهل الاهتداء، قد وقع واقع فلا تميلوا إلى المراء واتبعوا قول النبي الذي إشارته حكم وطاعته غُنم، ولا تكونوا من الأشقياء، ولا يفرط وهمكم إلى الألفاظ اور صحیح اور فصیح لفظ چھوڑ کر ایک غیر محاورہ اور رڈی اور غلط لفظ استعمال کرے بلکہ مسلمات قوم کے مخالف بیان کرے اور بلغائے زمانہ کے مقبول لفظوں کو چھوڑ دے اور ہنسنے والوں کے لئے ہنسی کی جگہ ہو جائے۔ اور بخدا یہ خطاء مبین اور لغزش ذلیل کرنے والی کسی منجمد عقل اور سطحی رائے سے بھی صادر نہیں ہو سکتی پس کیونکر اس سے صادر ہو جو فصاحت کے میدان کا سوار ہے بلکہ سواروں کا سردار ہے تمہیں کیا ہو گیا جو تم اللہ اور رسول کی عزت کو نہیں دیکھتے اے دلیری کرنے والوں کے گرو ہو کیا تمہارا بخل تمہیں بہت پیارا اور عزیز ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ پیار نہیں۔ کیا تم نہیں پہچانتے کہ یہ لفظ اس محل میں خلاف محاورہ اور مجہول ہے اور اہل زبان کے کلمات میں اس کا استعمال ثابت نہیں اور کسی بلیغ غیر بلیغ کی عبارت میں یہ لفظ پایا نہیں گیا اور کسی غبی رطب یا بس جمع کرنے والے نے بھی اضطرار کے وقت اس لفظ کو نہیں لکھا پس کس طرح اس کی زبان پر جاری ہو تا جو سلطان الفصاحت اور سپہ سالار ہے اور اس لفظ سے تمہاری عقلیں آزمائی گئیں اور تمہاری نقل کا اندازہ ہو گیا اور تمہار اندازہ علم اور فضل اور حقیقت ادب اور تمہاری اونچی زمین کے باغ کی حقیقت سب کھل گئی کیونکہ تم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس چیز کو نسبت دی جو کسی جاہل سے جاہل کی طرف منسوب نہیں کر سکتے قریب ہے جو اس شوخی اور جرات کی شامت سے آسمان پھٹ جائیں سو تم خدائے بزرگ سے ڈرو اور حق کی دعوت قبول کرو جیسا کہ ہدایت یافتہ لوگ قبول کرتے ہیں جو نشان ظاہر ہونا تھا و چکا اب تم جھگڑے کی طرف مت جھکو اور اس نبی صلعم کی پیروی کرو جن کی اشارت حکم ہے اور فرمانبرداری ان کی ہو