The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 566

The Light of Truth — Page 352

352 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO في مكتوب أنهم ينتظرون الخسوف والكسوف بالانتظار الشديد، ويرقبونهما رقبة هلال العيد. وما بقى فيها بيت إلا وأهله ينامون ويستيقظون في هذه الأذكار، فهذا تحريك من الله الذي أراد إشاعة هذه الأنوار. وإنى أزى أن أهل مكة يدخلون أفواجًا في حزب الله القادر المختار، وهذا من ربّ السماء وعجيب فى أعين أهل الأرضين. وذكر بعض المتأخرين أنّ القمر ينخسف في الثالث عشر من ليلة رمضان، والشمس في السابع والعشرين، ولا منافاة بينه وبين ما روى الدارقطني إلا قليلا عند المتفكرين فإن عبارة الدارقطني تدل بدلالة صريحة وقرينة واضحة صحيحة، على أن خسوف القمر لا يكون فى أول ليلة رمضان أصلاً، ولا سبيل إليه جزمًا وقطعًا، فإن عبارته مقيدة بلفظ القمر، ولا يُطلق اسم القمر على هذا النَّيّر إلا بعد ثلاث ليال إلى آخر الشهر، وسمّى قمرًا في تلك الأيام لبياضه التام، وقبل الثلث هلال وليس فيه مقال، وهذا أمر اتفق عليه العرب 1. قال صاحب تاج العروس يُسمّى القمر لليلتين من اوّل الشهر هلالا وفي الصحاح القمر بعد ثلاث الى آخر الشهر وقال بعضهم الهلال الى سبع وقال ابو اسحاق والذى عندى وما عليه الاكثر ان يُسمى هلالا ابن ليلتين فانه فى الثالثة يتبين ضوءه. منه اور نصوص قرآن کریم اس کے موافق ہے اگرچہ اجمالی بیان میں ہی ہو اور باوجود اس کے ہم ان نشانوں کو دیکھ رہے ہیں اور اہل مکہ میں ایک جوش پیدا ہوا ہے جو ان خبروں کی تصدیق کرتا ہے اور میں نے ایک خط میں پڑھا ہے کہ وہ خسوف اور کسوف کے سخت انتظار کر رہے ہیں اور اس کی ایسی انتظار کر رہے ہیں جیسا کہ ہلال عید کی انتظار ہوتی ہے اور مکہ میں کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہا جس گھر کے باشندے سوتے جاگتے یہی ذکر نہ کرتے ہوں سو یہ اس خدا کی طرف سے تحریک ہے جس نے ان نوروں کا پھیلنا ارادہ فرمایا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اہل مکہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہو جائیں گے اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب اور بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ چاند گرہن رمضان کی تیرہ تاریخ میں رات کو ہو گا اور ۲۷ رمضان کو سورج گرہن ہو گا اور باوجود اس کے یہ ایک ایسا بیان ہے کہ اس میں اور دار قطنی کے بیان میں سوچنے والوں کی نگاہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں کیونکہ دار قطنی کی عبارت ایک صریح بیان اور قرینہ واضحہ صحیحہ کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی تاریخ میں ہرگز نہیں ہو گا اور کوئی صورت نہیں کہ پہلی رات واقع ہو کیونکہ اس عبارت میں قمر کا لفظ موجود ہے اور اس نیر پر تین رات تک قمر کا لفظ بولا نہیں جاتا بلکہ تین رات کے بعد اخیر مہینہ تک قمر بولا جاتا ہے۔ اور قمر اس واسطے نام رکھا گیا کہ وہ