The Light of Truth — Page 350
350 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO هو خبر من أخبار آخر الزمان وقرب الساعة واقتراب الأوان كما لا يخفى على المتدبّرين. ويؤيده ما جاء في الدارقطني عن محمد الباقر بن زين العابدين قال إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والأرض ينكسف القمر لأول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه وأخرج مثله البيهقى وغيره من المحدثين. وقال صاحب الرسالة الحشرية شاه رفيع الدين الدهلوى الذي هو جليل الشأن من علماء الملة إن جماعة من أهل مكة يعرفون المهدى بالتفرس التام، وهو يطوف بين الركن والمقام، فيبايعونه وهو كاره من بيعة الأنام وعلامة هذه القصة عند محدّثى الملة أن القمر والشمس ينكسفان في رمضان خلا قبل تلك الواقعة وأما نحن فما اطلعنا على مسانيد تلك الآثار، وطرق توثيق هذه الأخبار، إلا على القدر المشترك الذي عرفناه بتواتر الرواية وحسن الدراية ومشاهدة الواقعة وقيام البرهان، وقد وافقه نصوص القرآن ولو بإجمال البيان ومع . ذلك نرى هذه الآثار وقد ظهر فى أهل مكة عَلَى يُصَدِّق هذه الأخبار وقرأت دنیا سے تعلق رکھتا ہے نہ آخرت سے اور قیامت کی طرف اس کو منسوب کرنا اور کسی روایت کو پیش کرنا خطا فی الدرایت ہے بلکہ وہ آخر زمانہ اور قرب قیامت کی خبروں میں سے ایک خبر ہے جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ اور اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو دار قطنی نے امام محمد بن علی سے روایت کی ہے کہا ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوئے جب سے کہ زمین آسمان پیدا کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ رمضان کی رات کے اول میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہو گا اور اسی مہینہ کے نصف باقی میں سورج گرہن ہو گا اور اسی کی مانند بیہقی اپنی کتاب میں ایک حدیث لایا ہے اور ایسا ہی بعض دوسرے محدث بھی اور صاحب رسالہ حشریہ شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی بھی جو علماء اسلام سے ایک جلیل الشان عالم ہے اس نے کہا ہے کہ ایک جماعت اہل مکہ میں سے مہدی کو اپنی فراست سے پہچان لے گی اور وہ اس وقت رکن اور مقام میں طواف کرتا ہو گا تب اس حالت میں اس کی بیعت کریں گے اور وہ کراہت کرتا ہو گا کہ کوئی اس سے بیعت کرے اور اس قصہ کی علامت جیسا کہ محد ثین ملت نے روایت کی ہے یہ ہے کہ چاند اور سورج کو اس رمضان میں گرہن لگے گا جو اس واقعہ سے پہلے گزر چکا ہو مگر ہم نے ان روایتوں کے اسانید پر اطلاع نہیں پائی اور ان روایات کی توثیق کے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہوئے صرف قدر مشترک کے تحقق اور ثبوت کا ہمیں علم ہے اور قدر مشترک وہی ہے جس کو ہم نے تواتر روایت اور حسن درایت اور مشاہدہ واقعہ اور دلیل کے قائم ہونے سے دریافت کیا ہے