The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 566

The Light of Truth — Page 348

348 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO الفك الخسوف الذي تعرفون باليقين لا بالشك، علله وأسبابه، وتفهمون مواقعه وأبوابه؟ وكيف يظهر أمر لازم للنظام بعد فك النظام والفساد التام؟ فإنكم تعلمون أن الخسوف والكسوف ينشآن من أشكال نظامية وأوضاع مقرّرة منتظمة، على أوقات معينة وأيام معروفة مبيّنة، فكيف يُعزَى وقوعها إلى ساعة لا أنساب فيها ولا أسباب، ولا نظام ولا إحكام؟ فانظروا إن كنتم ناظرين ثم من لوازم الكسوف والخسوف أن يرجع القمر والشمس إلى وضعهما المعروف، ويعودا إلى سيرتهما الأولى، وفي هويتهما داخل هذا المعنى، وأما تكوير الشمس والقمر في يوم القيامة فهي حقيقة أخرى، ولا يُرَدُّ فيهما نورهما إلى حالة أولى، بل لا يكون وقوعه إلا بعد فك النظام والفساد التام وهدم هذا المقام، وما سماه الله خسوفا وكسوفا بل سماه تكويرا أو كشط الأجرام، كما أنتم تقرءون في كلام الله العلام فثبت من هذا الكلام عند الخواص والعوام، أن ما ذكر من الآية في هذه الآية فهو يتعلق بالدنيا لا بالآخرة، وعزوه إلى القيامة بناءًا على الرواية خطأ في الدراية، بل جائے اور ایک عالم اکبر پیدا کیا جائے پس کیونکر فک نظام کی حالت میں وہ خسوف کسوف ہو سکتا ہے جس کے علل اور اسباب تمہیں معلوم ہیں اور اس کے ظہور کے وقت اور ظہور کے دروازے تم نے سمجھے ہوئے ہیں اور وہ امر جو نظام عالم کا ایک لازمہ ذاتی ہے کیونکر بعد فک نظام اور فک تام کے ظہور پذیر ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ خسوف اور کسوف اشکال نظامیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نیز ان کا پیدا ہونا اوضاع مقررہ منتظمہ پر موقوف ہے جو ان اوقات معینہ اور مشہور دنوں پر موقوف ہے جو فن ہیئت میں بیان کئے گئے ہیں پس کیونکر اُن کو اس گھڑی کی طرف منسوب کیا جائے جس میں نہ نسب ہیں نہ اسباب نہ نظام نہ ترتیب نہ محکم کرنا سو تم سوچو اگر کچھ سوچ سکتے ہو پھر لوازم خسوف اور کسوف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج اور چاند اپنی اصلی وضع کی طرف رجوع کریں اور اپنی پہلی سیرت کی طرف عود کر آویں اور خسوف کسوف کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کریں مگر تکویر شمس و قمر جو قیامت میں ہو گی وہ اور حقیقت ہے اور تکویر کے وقت نور شمس و قمر اپنی پہلی حالت کی طرف نہیں آئے گا بلکہ تکویر کا وقوع فک نظام اور فساد تام اور انہدام کلی کے وقت ہو گا اور اس کا نام خدا تعالیٰ نے خسوف کسوف نہیں رکھا بلکہ اس کا نام تکویر اور کشط رکھا ہے جیسا کہ تم خدا تعالیٰ کے کلام میں پڑھتے ہو۔ پس اس کلام سے خواص اور عوام پر ثابت ہو گیا کہ جو نشان خسوف کسوف قرآن شریف میں یعنی اس آیت میں لکھا ہے وہ