The Light of Truth — Page 6
6 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE من غير علم ولا برهان مبين. وأمهم في هذه الفتاوى شيخ عارى الجلدة من الحلل الإنسانية والديانة الإيمانية، وتبعوه أمثاله جهلا وحمقا، وما كنا كمجهول لا يُغرَف، بل كانوا على إسلامنا مطلعين. وما صرنا بتكفيرهم كافرين عند الله، ولكن سُبرَ إيمانهم وتقواهم ومبلغ فهمهم وعلمهم، وتبين ما كانوا يسترون، وبان أنهم كانوا حاسدين. يا حسرة عليهم ما عطف إلينا أحد منهم ليسأل ما أشكل عليه حلمًا ورفقًا، وما سمعنا صكة مستفتح من المسترشدين. وما جاءنا أحد منهم بصدق القلب وصحة النية، بل بادروا إلى التكفير وكفّروا قبل أن يثبت كفرنا . ثم ما اقتصروا عليه بل قالوا إن هؤلاء مرتدون خارجون من الدين، وفى قتلهم أجر عظيم، ونهب أموالهم حلال طيب ولو بالسرقة، وأخذ نسائهم وسبى ذراريهم عمل صالح حسن، ومن انسل بسحرة وسقط على أحد من مسافريهم كاللصوص فهو من نخب الصالحين. هذه أقوالهم وفتاواهم، وما امتنعوا إلى هذا الوقت من هذه الفتن الصماء، وما فاءوا إلى الارعواء، وما كانوا متندمين. ولولا خوف سيف الدولة البرطانية لمزقونا كل ممزّق، ولكن هذه الدولة القاهرة السائسة المباركة لنا - جزاها الله منا خير الجزاء - تؤوى الضعفاء تحت جناح التحنّن والترحم، فما كان لقوى أن يظلم الضعيف، فنعيش تحت ظلها بالأمن والعافية شاكرين. وإنّ هذا فضل الله علينا وإحسانه أنه ما فوض نہ افترا سے کچھ پر ہیز اور نہ جھوٹ سے کچھ خوف اور اسی طرح انہوں نے ہم پر افترا کیا اور بہت سے نادان لوگوں کو ہمارے ستانے کے لئے اٹھایا اور ہمیں کافر ٹھہرایا حالانکہ کوئی بھی وجہ کفر نہیں تھی اور ان فتووں میں پیشوا ان کا ایک شیخ ہے جو انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ اور برہنہ اور ایمانی دیانت سے عاری ہے اور اس کے پیرو اسی کی مانند ہیں جو محض جہل اور حمق سے اس ۔ اسے اس کے پیچھے ہو لئے اور : د لئے اور ہم ایسے نہیں تھے جو ہمارا حال ان سے پوشیدہ ہو بلکہ ہمارے اسلام پر وہ مطلع تھے اور ان کے کہنے سے ہم خدا کے نزدیک کافر نہیں ہو گئے مگر ان کا ایمان اور ان کا تقویٰ اور ان کا اندازہ فہم اور علم سے آزمایا گیا اور جو کچھ وہ چھپاتے تھے وہ سب ظاہر ہو گیا اور کھل گیا کہ وہ حاسد ہیں۔ ان پر افسوس کہ ان میں سے ایک بھی ہماری طرف متوجہ نہ ہوا تا اپنی مشکلات کی نسبت حلم اور رفق سے سوال کرتا اور ہم نے کسی کھٹکھٹانے والے کا کھٹکا نہ سنا جو رشد حاصل کرنے کا طالب ہو اور کوئی ان میں سے ہمارے پاس صدق قلب اور صحت نیت سے نہ آیا بلکہ جھٹ پٹ تکفیر کی طرف دوڑے اور قبل اس کے جو ہمارا کفر ثابت ہو کافر ٹھہرایا اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ یہ لوگ مرتد اور دین سے خارج ہیں اور ان کا قتل کرنا بڑے ثواب کی بات ہے اور ان کا مال لوٹنا اگر چه چوری سے ہی کیوں نہ ہو حلال طیب ہے اور ان کی عورتوں کو پکڑ لینا اور ان کی اولاد کو غلام بنا لینا عمل صالح میں داخل ہے اور جو شخص فجر کو پہلے وقت اٹھے اور جنگل میں نکل جائے اور ان کے مسافروں میں سے کسی پر چوروں کی طرح ڈاکہ مارے تو وہ بڑا ہی نیک بخت اور چنے ہوئے نکوکاروں میں سے ہے۔ یہ ان کی باتیں اور یہ ان کے فتوے ہیں اور اب تک ان نہائت پر شر فتنوں سے باز نہیں آئے اور حیا کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ نادم ہوئے۔ اور اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے لیکن یہ دولت برطانیہ غالب اور باسیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے خدا اس کو ہماری طرف سے جزاء خیر دے۔ کمزوروں کو اپنی مہربانی اور شفقت