The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 566

The Light of Truth — Page 292

292 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE مستشفين. أسخطوا المولى ليرضوا عبيده، ونسوا وعيده ومواعيده، ونبذوا وراء ظهورهم تعليم النبيين. ولا شك أنهم اتخذوا عيسى إلها من دون رب العالمين. وهو عندهم مالك يوم الدين ويقولون لا أثر يومئذ معه من البشرية، مع كونه مجسمًا ومركبًا من العظم واللحم كالآدميين. هذه عقيدتهم وعقيدة الذين غلسوا قبلهم فى مبادى الأيام أمام أعين الإسلام، ثم فى هذا الزمن انفتحت أعينهم وقلت ظلمتهم بما شاعت فيهم العلوم العقلية والحكم الفلسفية، فرأوا سوءة مذهبهم واستحالة مطلبهم، فبادروا إلى التأويلات مخافة من الملامات والتشنيعات وتخوّفًا من كلمات المستهزئين، لأن الفطرة الإنسانية تأبى من قبول هذه العقيدة الدنية، والخرافات الردية التى هى بديهة البطلان عند الرجال والنسوان خصوصًا فى هذه الأيام التي مالت العقول السليمة إلى التوحيد، وهبّت من كل طرف رياح التنزيه الله الوحيد، وكسدت سُوقُ المشركين . فأنّى لهم أن يخفوها بعد إظهارها ونشرها وإزاحة قشرها؟ أيُخفون أمرًا أُشيع في البلاد والأرضين؟ ومثل الذين بدلوا الطيبات بالخبيثات وتركوا الحسنات وبادروا إلى السيئات ولا يتقون الله في إخفاء العثرات وتأويل الخرافات، كمثل رجل كان يأكل البراز من مدة مديدة، ويحسبه من أغذية لطيفة جديدة، ولا يتنبه على أنه رجس وقذر لا من أطعمة الآدميين، فلاقاه اس کے کوچوں سے خُو پذیر ہو گئے اور اپنے تئیں دیکھا کہ اپنے مذہب میں خطا کی بلکہ نافرمانی کی سرکشی کی پس وہ مبہوت ہو گئے اور ایسے ہو گئے جیسا کہ کوئی نشہ میں ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے تئیں شرک میں مبتلا ایسا دیکھا جیسا کہ کوئی قیدی ہوتا ہے پس ان کو اپنے مذہب پر نہایت تاسف ہوا جو شرمندگی سے ملا تھا پس وہ اس سوچ میں لگے کہ کسی طرح اپنے ناپاک مذہب کی اصلاح کریں اور اس متاع کم قدر کو رواج دیں مگر خدا نے ان پر تباہی ڈالی انہوں نے اصلاح کے لئے صرف مکارانہ تدبیریں سوچیں اور ناپاک عقائد میں سے کچھ بھی نہ بدلا یا صرف تقریر کا پیرایہ بدلا دیا باوجودیکہ مال ایک ہی تھا سو ظالموں کی ہلاکی ہو۔ کیسی گمراہیوں کی آفتوں نے ان کو گھیر لیا اور مال قول میں اپنے پہلے بھائیوں میں متحد ہو گئے اور تعمیق نظر سے نہ دیکھا۔ مولی کو ناراض کر دیا تا کہ اس کے بندوں کو راضی کریں اور خدا تعالیٰ کے وعدے اور وعید بھلا دیے اور نبیوں کی تعلیموں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔ اور کچھ شک نہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو من دون الله خدا بنایا ہے۔ اور وہی ان کے نزدیک سزا جزا کا مالک ہے اور کہتے ہیں قیامت کے دن اس کے ساتھ بشریت میں سے کوئی صفت نہ ہو گی یعنی سراسر وہ خدا ہی ہو گا باوجود اس کے جو اس کے ساتھ جسم بھی ہو گا اور ہڈیاں اور گوشت بھی۔ جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے یہ ان کا عقیدہ ہے اور ان لوگوں کا عقیدہ جو ان سے پہلے شب تاریک میں چلے اور اسلام کی آنکھوں کے آگے اپنا فساد ظاہر کیا پھر جیسا کہ ہم لکھ چکے . ہم لکھ چکے ہیں اس زمانہ میں اُن کی آنکھیں کھلیں اور تاریکی کچھ کم ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں علوم عقلیہ اور حکم فلسفیہ شائع ہو گئے سو انہوں نے اپنے مذہب کے اور اپنے مطالب کے محالات کو مشاہدہ کیا پس وہ تاویلات کی طرف دوڑے تا ملامتوں اور تشنیعوں اور ٹھٹھا کرنے والوں سے اپنا بچاؤ کریں کیونکہ انسانی فطرت اس کمینہ عقیدہ اور خرافات رڈیہ کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ وہ مردوں اور عورتوں کے نزدیک بدیہی