The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 566

The Light of Truth — Page 290

290 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ومن اعتراضات هذا العاصى الغافل عن يوم يؤخذ المجرمون بالنواصي، أنه يظنّ كأن القرآن أخطأ في بيان مذهب النصارى وعقائدهم، وما فهم مقصد عمائدهم، وعزا إليهم ما يخالف عقيدة المسيحيين. فاعلم أنّ بيانه هذا بهتان عظيم وكذب مبين، والحق أن القرآن لما جاء كانت النصارى فرقا متفرقين، فبعضهم كانوا يعبدون المسيح، وبعضهم معه أُمَّه، وبعضهم كانوا يسجدون لتصاويرهما ويعبدونهما كعبادة رب العالمين. وكان اللجاج بينهم قد احتد والحجاج قد اشتد، وكان كلهم قومًا ضالين، إلا قليلا منهم كانوا موحدين مع بدعات أخرى وكانوا كالعمين. فبين القرآن ما رأى وبكتهم وسكتهم بيان أجلى، وقال أنتم تعبدون إنسانا من دون الله الأغنى، وما تعبدون ربكم الأعلى، فما برء وا أنفسهم بل سكتوا كالمفحمين المُقرّين. فوقعت عليهم الحجة وقام البرهان وثبت أنهم كانوا يعتقدون كما بين القرآن وكانوا مشركين . ثم جاء بعدهم قوم آخرون من النصارى وقرأوا كتب الفلسفة فبهتوا وصاروا كالسكارى، ورأوا أنفسهم فى الشرك كالأسارى، فتأسفوا على مذهبهم متندمين. ففكروا الإصلاح ما فسد وترويج ما كسد، فقتلوا كيف فكروا وذكروا وما بدلوا إلا حلل المقال مع اتحاد المال، فتغسًا لقوم ظالمين. وغَشِيَهم ما غَشِيَهم من آفات الضلال، وتلاقوا في مآل الأقوال، وما كانوا غلام اور خدا تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب اور بزرگ صحیفوں میں روح القدس کے اور صفات بھی بیان کئے ہیں اور اس کی پاکیزگی اور اس کی سچائی اور اس کی امانت اور اس کے قرب کا ذکر کیا ہے پس اس کو شیطان وہی سمجھے گا جو خود شیطان ہے۔ اور منجملہ اعتراضات اس سرکش کے جو قیامت کے دن سے غافل ہے ہے ا ایک یہ ہے کہ وہ گمان کرتا ہے کہ گویا قرآن کریم نے مذہب نصاری کے بیان کرنے اور انکے عقیدوں کی تفسیر میں غلطی کی ہے اور گویا قرآن شریف نے نصاریٰ کے عمائد کے مطلب کو نہیں سمجھا اور ان کی طرف وہ امر منسوب کیا جو ان کے عقائد کے مخالف ہے۔ پس جاننا چاہیے کہ یہ بیان اس کا سراسر بہتان اور صریح جھوٹ ہے اور حق یہ ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو نصاری کئی فرقے تھے اور بعض حضرت مسیح اور ان کی والدہ کی پرستش کرتے تھے اور بعض ان کی تصویروں کے بھی پجاری تھے اور ان کی ایسی پرستش کرتے تھے جیسی خدا تعالیٰ کی کرنی چاہیے اور ان میں باہم لڑائیاں اور جھگڑے بہت تیز ہوئے ہی تھے اور وہ سب کے سب گمراہ تھے۔ مگر تھوڑے ان میں سے موحد بھی تھے مگر انہوں نے اور اور بدعات ساتھ ملا رکھی تھیں اور اندھوں کی طرح تھے سو قرآن نے جو دیکھا بیان کر دیا اور ظاہر ظاہر بیان سے ان کو ملزم اور لاجواب کیا اور اپنے لفظوں میں فرمایا کہ تم لوگ خدا تعالیٰ کے سوا انسان کی پرستش کرتے ہو اور اپنے رب اعلیٰ کی تم پرستش نہیں کرتے پس وہ لوگ اپنے نفس کو اس الزام سے بری نہ کر سکے بلکہ وہ ایسے ساکت ہوئے جیسا کہ وہ شخص ساکت ہوتا ہے جس پر الزام وارد ہوتا ہے یا اقراری ہو جاتا ہے پس ان پر حجت واقع ہوئی اور دلیل قائم ہو گئی اور ان کی خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ وہ ایسا ہی اعتقاد رکھتے تھے جیسا کہ قرآن نے فرمایا اور در حقیقت مشرک تھے۔ پھر ان لوگوں کے گزر جانے کے بعد دوسرے نصاری دنیا میں ظاہر ہوئے اور وہ اپنے باپ دادوں کے آثار پر قائم تھے پس انہوں نے فلسفہ کی کتابیں پڑھیں اور ان کے مسائل سے عادت پکڑی اور