The Light of Truth — Page 288
288 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE واعلم أن هذه القصائد معروفة بغاية الاشتهار كالشمس في نصف النهار، وقد أجمع كافة الأدباء وجهابذ الشعراء على فضلها وكمال براعتها واتفق عامة البلغاء على حسنها ونباهتها، واختارها الحكومة الإنكليزية لطلباء مدارسها وسبقاء كوالجها وشرباء كيالجها لتكميل القارئين ولا ينكرها إلا الذي مثلك غبى وشقى كعمين. هذا ما أوردنا لإلزامك وإفحامك من نظائر المتقدمين وكلام المشهورين المقبولين. وأما ما يظهر من سياق كلام الله وسباقه ومن عقد درّ حقاقه، فهو طريق أقرب من ذلك للمسترشدين. فإنه تعالى كما وصف روح القدس بقوله، ذُوْ مِرَّةٍ ، كذلك وصفه في مقام آخر بذى قوة فقال ، ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مكين فقوله في مقام ذُو مِرَّةٍ وفى مقام ذُوقُوَّة شرح لطيف بأفانين البيان، وكذلك جرت سُنّة الله في القرآن، فإنه يفسر بعض مقاماته ببعض آخر ليزيد الاطمئنان، وليعصم كتابه من تحريف الخائنين. ولقد ذكر الله تعالى في كتابه المحكم وسفره المكرم صفات أخرى للروح الأمين، وبين عبارته وصدقه وأمانته وقربه من رب العالمين فلا يحسبه شيطانا إلا الذي هو شيطان لعين. 1. النجم : 7 الناشر . التكوير : ٢١ الناشر اور جاننا چاہیے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں جیسے سورج دوپہر کے وقت اور تمام جماعت فصیح شعراء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور اس کے حسن اور خوبی پر شعراء کا اتفاق ہے اور گورنمنٹ انگریزی نے اس کتاب کو اپنے مدارس تعلیمیہ میں کالجوں کے پڑھنے والوں اور علوم ادبیہ کے پیالے پینے والوں کے لئے ان کی تکمیل تعلیم کی غرض سے داخل کیا ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا بجز اس شخص کے جو تیرے جیسا غبی اور شقی اور اندھوں کی طرح ہو۔ یہ وہ نظائر شعراء متقدمین ہیں جن سے تیرا الزام اور انجام مقصود ہے مگر وہ امر جو کلام الہی کے سیاق سباق اور اس کے موتیوں کی لڑیوں کے حقہ سے معلوم ہوتا ہے تو وہ طریق ہدایت طلبوں کے لئے بہت قریب ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے جیسا کہ روح القدس کو ذی مرہ کے ساتھ موصوف کیا ہے اسی طرح دوسرے مقام میں ذی قوۃ کے ساتھ منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ ذو قوة عند ذى العرش مكين . پس خدا تعالیٰ کا ایک مقام میں جبرئیل کو ذو مرّہ کہنا اور دوسرے مقام میں ذو مرہ کی جگہ ذو قوة کہہ دینا یہ ذو مرہ کے معنے کی ایک شرح لطیف ہے جو تبدیل بیان سے کی گئی ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کی یہی سنت جاری ہے کہ بعض مقامات قرآن اس کے بعض آخر کے لئے بطور تفسیر ہیں تاکہ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کو خیانت کرنے والوں کی تحریف سے بچاوے۔