The Light of Truth — Page 286
286 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ومن عجائب لفظ المرّة اشتراكه فى العربية والهندية فى معنى الإدارة وإحكام الفتل بالمبالغة، فإن الهنديين يقولون للإمرار مروڑنا كما لا يخفى على الهنديين. وهذا ثبوت صريح من غير شائبة المين لاستخراج أصل حقيقة الذي هو دائر بين اللسانين، وفيه نكتة تسر المحققين. وأما لفظ ذِي مِرَّة بمعنى العقل، فإن كُنتَ تطلب منا نظيره مع تصحيح النقل، فاعلم أن صاحب تاج العروس شارح القاموس فسّر لفظ ذي مرّة بمعنى ذى الدهاء، وقال يُقال إنه لَذُو مِرَّة أى عقل في مثل العرب العرباء وإن لم يكفك هذا المثل مع أنه هو الأصل، وتطلب منا نظيرا آخر من الأيام الجاهلية والأزمنة الماضية، فاقرأ هذا البيت من صاحب القصيدة الرابعة من السبع المعلقة، وكان من نبغاء الزمان وفي البلاغة إمام الأقران، وزاد عمره على مئة وخمسين، وهو هذا رَجَعًا بِأَمْرِهِما إلى ذي مِرَّةٍ حَصِدٍ وَنُجْحُ صَرِيمةٍ إِبرامها اور لفظ مرہ کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے معنے بٹ دینے اور مروڑ دینے میں عربی اور ہندی میں مشترک ہے کیونکہ ہندی لوگ امرار کو مروڑنا کہتے ہیں جیسا کہ ہندیوں پر پوشیدہ نہیں۔ اور یہ صریح ثبوت بغیر شائبہ کسی تاریکی کے ہے اور اس اصل حقیقت کا استخراج اس سے ہوتا ہے جو دو زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو خوش کرتا ہے۔ لیکن لفظ ذی مرہ جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرناہو پس جاننا چاہیئے کہ صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے لفظ ذی مرہ کو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور پر کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انه لذو مرة اور مراد اس سے انه لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تو ایام جاہلیت کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ بیت غور سے پڑھ جو سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان اور فصحاء اقران میں سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا۔ وہ دونوں ذی مرہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو جایا کرتے ہیں