The Light of Truth — Page 284
THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE 284 أفعال قوية وموجبًا لجرأة وشجاعة وكلّ أمر يخالف عادات الجبان ويوافق سير الشجعان، فتفكر إن كنت من الطالبين. وأما نظيره في أشعار بلغاء الجاهلية ونبغاء الأزمنة الماضية، فكفاك ما قال امرؤ القيس في قصيدته اللامية درير كخُذْرُوفِ الوَلِيدِ أَمَرَّهُ تَتابعُ كَفَّيْهِ بِخَيْطٍ مُوَصَّلِ وكذلك بيت لعمرو بن كلثوم التغلبي الذي هو نابغ في اللسان العربي، وقال في القصيدة الخامسة من السبع المعلقة، ونحن نكتبه نظيرًا لمعنى الإدارة، وهو هذا تَرَى اللَّحِزَ الشَّحِيحَ إِذا أُمِرَّتْ عليه لما له فيها مهينا اپنی شدت اور قوت اور لطافت میں باقی اخلاط سے بڑھ کر ہے اسی واسطے صاحب اس کا مصدر افعال قویہ اور جری اور شجاع ہوتا ہے اور اس سے ایسے امر صادر ہوتے ہیں جو بزدلی کے مخالف ہیں پس تو فکر کر اگر طالب حق ہے۔ لیکن اگر تو جاہلیت کے نامی شعراء اور فصحاء کے اشعار میں سے اس کی نظیر طلب کرے پس تیرے لئے ایک شعر امرء القیس کے قصیدہ لامیہ کا کافی ہے کیونکہ اس نے کہا ہے۔ امره یعنی بٹ دیا اور مروڑ دیا اور اسی طرح عمرو بن كلثوم تغلبی کا ایک شعر ہے اور وہ بھی اپنے وقت کا بدیہہ گو شاعر تھا اور اس نے یہ شعر قصیدہ خامسہ سبعہ معلقہ میں کہا ہے کہ امرت یعنی چکر دیا جائے اور پھر ایا جائے