The Light of Truth — Page 4
4 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE طرف وصبّت كوابل على الإسلام، حتى حل كلَّ قلب حُبُّ الدنيا وشهواتها، إلا الذي عصمه رحم الله، فانثنى بفضل منه ورحمه وكان من المحفوظين. وترون كيف ذهبت ريح . عامة المسلمين وتفرقوا وانتشروا انتشار الجراد، واستنت نفوسهم الأمارة استنان الجياد، وتركوا سير المتقين المتواضعين. هذه أحوال العامة، وأما حال علماء هذه الديار فهو شر من ذلك، ما بقى لأكثرهم شغل من غير أن يُكذّبوا صدوقاً، أو يُكفّروا مؤمنًا، وليس معهم من العلم إلا كنغبة طير أصغر الطيور أو أقل منها، ولكن الكبر أكبرُ مِن كِبر الشياطين. يُعلون أنفسهم بغير حق، ومن كان تبوأ ذروة في الفضل والعلم فهو ليس في أعينهم إلا جاهِلٌ غَبِيٌّ ومَن مُلئ قلبه إيمانًا ومعرفة، فهو ليس عندهم إلا كافر دجال. فانظروا كيف عُمِّيت عليهم الحقائق، وكذلك يجعل الله مآل الزائغين المعتدين. وقد رأيتم أننا كيف أوذينا من لسنهم إنهم كذبونا، شتمونا، لعنونا، وما كان لهم علينا ذنب وما كنا مجرمين. ثم ما اقتصروا عليه بل جاء وا يهرعون إلينا مشتعلين، وسمونا كافرين. وما كان لهم أن يتكلموا في مسلمين إلا خائفين. ولكنهم لا يبالون نَهى ذى الجلال بل لهم أعمال دون ذلك يقولون للمسلم لست مؤمنا، ويعلمون أنهم تركوا القرآن بقولهم هذا واتخذوه مهجورا، فبعدوا عن الحق فقست قلوبهم يفعلون ما يشاءون، ولا يتقون افتراء ولا زورا، وكذلك افتروا علينا وحتوا ناسًا كثيرا من ذوى سفه على إيذائنا، وكفرونا س اور دنیا کی شہوات گھر کر گئیں اور ان سے کوئی نہیں بچ سکا بجز اس کے جس کو خدا کے رحم نے بچا لیا جس پر رحم ہوا وہ فضل اور رحم الہی کے ساتھ ان تمام بلاؤں سے باہر نکل آیا اور بچ گیا۔ اور تم دیکھ رہے ہو کہ کیسی عام لوگوں کی ہوا نکل گئی اور ان میں نا اتفاقی اور تفرقہ پیدا ہو گیا اور وہ ٹڈیوں کی طرح الگ الگ جا پڑے اور ان کے بیراه نفسوں نے خود رو گھوڑوں کی طرح تو سنے شروع کئے اور پر ہیز گاروں اور فروتنوں کی خصلتیں انہوں نے چھوڑ دیں۔ یہ تو عام لوگوں کا حال ہے مگر اس ملک کے اکثر عالموں کا حال اس سے بھی بدتر ہے ان میں سے بہتوں کا شغل بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ کسی بچے کو جھوٹا قرار دیں یا کسی مومن کو کافر ٹھہرا ویں ان کا علم تو فقط اس قدر ہے جیسے کہ چھوٹے سے بلکہ بہت سے کم قدر پرند کی چونچ میں پانی سما سکتا ہے مگر تکبر شیطان کے تکبر سے بھی زیادہ ہے۔ یہا : ۔ یہ لوگ اپنے تئیں بے وجہ اونچا بھیجتے ہیں اور جو شخص در حقیقت فضل اور علم کے کے بلند ٹیلے پر جا جا گزین ہو وہ ان کی نظر میں ایک جاہل غبی ہے۔ اور جو شخص در حقیقت ایمان اور معرفت سے بھر گیا وہ ان کے نزدیک ایک کافر دجال ہے۔ سو دیکھو کیسے حقیقتیں ان پر چھپ گئیں اور خدا ایسا ہی ان لوگوں کا انجام کرتا ہے جو ٹیڑھے چلتے اور حد سے گذرتے ہیں۔ اور آپ لوگوں نے دیکھا کہ ہم کیسے ان لوگوں کی زبانوں سے ستائے گئے انہوں نے ہمیں جھٹلایا گالیاں نکالیں لعنتیں کیں اور ہم نے کوئی ان کا گناہ نہیں کیا تھا اور نہ کوئی جرم سرزد ہوا تھا۔ پھر انہوں نے اسی پر قناعت نہ کی بلکہ اشتعال طبع سے ہماری طرف دوڑے اور ہمارا نام کافر رکھا اور انہیں نہیں چاہیے تھا کہ بے ڈر ہو کر مسلمانوں کے حق میں ایسے کلمات منہ پر لاتے مگر وہ لوگ خدا تعالیٰ کی ممانعت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے بلکہ وہ تو اور ہی کاموں میں لگے ہوئے ہیں مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ تو مومن نہیں اور جانتے ہیں کہ ایسا کہنے سے وہ قرآن کو چھوڑتے ہیں اور قرآن کو تو وہ چھوڑ ہی بیٹھے ہیں سو اسی وجہ سے وہ سچائی سے دور جا پڑے اور ان کے دل سخت ہو گئے۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں