The Light of Truth — Page 258
258 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وقرين، ومسيحهم الذي هو رب في أعينهم ولا رَبَّ إلا الله قيوم العالمين، وليستمدوا من روحهم الذي كان يعلم الألسنة إن كانوا صادقين. هذا ما رضينا عليه من طيب نفسنا وانشراح صدرنا، ورضينا بالحكومة البريطانية أن تكون حَكَمًا بيننا وبينهم، فإن تجد هؤلاء الذين يصولون على بلاغة القرآن وفصاحته، ويقولون إنا نحن المولويون كعلماء المسلمين ولسنا من السفهاء الجاهلين ولنا يد طولى في تنقيد جدّ القول وهزله وتنقيح رقيق اللفظ وجزله - صادقين في هذا الامتحان وسابقين في هذا الميدان، فلتغطهم إنعامنا، وليكذب كلامنا، وليشع كمال علمهم في الديار والبلدان، وليشتهر فضائلهم إلى أقاصى البلدان، ولتكتب أسماء هم في الفاضلين. وإن لم تجدهم من العلماء الأدباء، بل وجدتهم معشر الجهلاء والسفهاء، بعيدين من هذا الزلال مُبْعَدين عن مثل هذا الكمال، فنرجو من عدل الحكومة البريطانية أن تمنع بعد هؤلاء الكذابين من أن يسموا أنفسهم مولويين، ويصولوا على بلاغة كلام الله مع كونهم جاهلين. وأول مخاطبنا في هذه الدعوة، ومدعونا لهذه المعركة، صاحب التوزين عماد الدين، فإنه آدمی سے پوچھ لے اور دور و نزدیک سے ہر یک مدد گار اور معین اپنے لئے بلا لیں اور مسیح سے بھی مدد لیں جو اُن کی نظر میں خدا ہے اور کوئی خدا نہیں بجز اس کے جو قیوم العالمین ہے اور چاہیئے کہ اپنے اس روح القدس سے بھی مدد لیں جو بولیاں سکھاتا تھا اگر بچے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر ہم اپنے دل کی خوشی اور انشراح صدر سے راضی ہو گئے اور ہم اس بات پر بھی راضی ہو گئے کہ گور نمنٹ انگریزی ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حکم بن جائے پس اگر گورنمنٹ ان لوگوں کو اپنے قولوں میں صادق پاوے جو قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے علماء کی طرح مولوی ہیں اور نادان نہیں ہیں اور فصاحت اور عدم فصاحت میں فرق کرنے کے لئے ہم میں مادہ ہے اور گور نمنٹ دیکھے کہ وہ اس میدان میں در حقیقت پیش دستی لے جانے والے ہیں پس لازم ہو گا کہ گورنمنٹ ہمارا انعام ان کو لے دے اور ہمیں کا ذب خیال کرے اور ان کے کمال علم کو ملکوں اور ولایتوں میں مشہور کرے اور دنیا کے کناروں تک ان کے فضائل مشتہر کر دے اور ان کے نام فاضلوں میں لکھ لے اور اگر گور نمنٹ ان کو ایسانہ پاوے بلکہ ان کو ایک جاہلوں کا گر وہ پائے جو اس قسم کے کمالات سے دور و مہجور ہیں پس ہم حکومت برطانیہ کے عدل اور انصاف سے امید رکھتے ہیں کہ بعد اس کے ان کذابوں کو اس بات سے منع کرے کہ اپنے تئیں مولوی کے نام سے موصوف کریں اور باوجود جاہل ہونے کے قرآن کریم کی بلاغت پر حملہ کریں۔ اور اس دعوت میں ہمارا اول مخاطب اور اس معرکہ میں ہمارا اول مد عو پادری عماد الدین ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت سے انکاری ہے اور اپنی ہر ایک کتاب میں بے حیائی دکھلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک عالم بزرگ ہوں اور قرآن فصیح نہیں ہے بلکہ صحیح بھی نہیں ہے اور میں اس میں کوئی بلاغت نہیں دیکھتا اور نہ فصاحت جیسا کہ خیال کیا گیا ہے اور