The Light of Truth — Page 256
256 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE من التعجب أن تقول أحلى وأفصح مما قلتُ إلى أسبوع مع أنك تؤلّف بتأييد جموع، لأنك لست من إعانتهم بممنوع وإنّى ما اتخذت معينا في رسالتي هذه، وقلتُ ما قلتُ من عند نفسى من فضل ربّي في أيام معدودة كالمقتضبين. ومع ذلك إنى أُمهلك وإخوانك وجميع خلا نك وقومك وأعوانك الذين يقولون إنا نحن المولويون، إلى شهرين كاملين من يوم الإشاعة، لترى كمال البراعة، فإن أتيتم بمثلها في هذه المدة التي هي أقل الآجال وتوازنتم فى كل أنواع المقال، ونرى أن قولكم تحاذى حذو النعال، فلكم خمسة آلاف روبية إنعاما منا وعدًا مؤكّدًا بقسم الله ذي الجلال وإن لم تطمئن بالأيمان الإيمانية فنجمع ذهب الشرط في خزينة الحكومة البريطانية لتكون من المطمئنين. وتعاهد الله بحلفة أن نعطى العدوّ حقه عند ظهور غلبة، ولو تخلّفنا فكنا كاذبين ونجعل الحكومة البرطانية حَكَمًا لهذه القضية، ومخيَّرًا فى هذه الخطة، ولها أن تعطى إنعامنا كلَّ مَن بارى كلامنا وأرى بوفق شرطنا نثرا كنثر ونظما كنظم في القدر والعدّة والبلاغة والفصاحة والتزام الجد والحكمة، هذا عهد منا، ولعنة الله على الناكثين. وللنصارى أن يتعاونوا لهذه المقابلة ويقوموا متفقين لتلك المعركة، ويكون بعضهم لبعض ظهيرا، وليستفسر الجاهل خبيرا، وليطلبوا لأنفسهم كل نصير ومعين، وبعيد بنالیوں اور تجھ کو یہ اجازت بھی حاصل ہے کہ تو اپنے تمام گروہ کے ساتھ مل کر لکھے کیونکہ ہماری طرف سے ان سے مدد لینے کی تجھ کو ممانعت نہیں اور میں نے اس رسالہ میں کسی دوسرے سے مدد نہیں لی اور جو کچھ میں نے کہا وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے چند دنوں میں حاضر نویس کی طرح اپنی طرف سے کہا ہے۔ اور باوجود اس کے میں تجھے اور تیرے بھائیوں اور تیرے دوستوں اور تیری قوم اور تیرے مدد گاروں کو جو کہتے ہیں جو ہم مولوی ہیں دو کامل مہینوں کی مہلت دیتا ہوں اور یہ مہلت اشاعت کی تاریخ سے ہے تا کہ تم اپنا کمال بلاغت دکھلاؤ پس اگر تم اس رسالہ کی مثل بنالائے اور اس مدت میں جو بڑی وسیع مدت ہے تم نے ہر یک مماثلت اور موازنت کے لحاظ سے رسالہ بنا کر پیش کر دیا اور ہم نے دیکھ لیا کہ نعل بنعل تم نے مقابلہ کر دکھلا یا تو اس صورت ہم تمہیں پانچ ہزار روپیہ انعام دیں گے یہ وعدہ اللہ جل شانہ کی قسم کے ساتھ موکد ہے اور اگر تجھے ایمانی قسموں پر اعتبار نہ آوے پس ہم خزانہ انگریزی میں روپیہ جمع کرادیں گے تاکہ تجھے اطمینان ہو۔ اور ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں کہ فریق ثانی کو اس کا حق اس کے غلبہ کے وقت فی الفور دے دیں گے اور اگر ہم نے تخلف کیا تو پھر جھوٹے ٹھہریں گے اور ہم حکومت انگریزی کو اس مقدمہ کے فیصلہ کرنے کے حکم مقرر کرتے ہیں اور حکومت انگریزی کو اختیار ہو گا کہ ہمارا انعام اس کو دے دے جو مقابلہ کے وقت پورا اتر آوے اور اس کی شرط کے موافق نظم اور نثر بنا لیوے۔ نظم اپنے قدر اور بلاغت اور التزام حق اور حکمت میں نظم کے مانند ہو اور نثر نثر کے مانند ہو اور خدا کی لعنت اُن پر جو عہد پورا نہ کریں۔ اور نصاریٰ کا اختیار ہو گا کہ اس مقابلہ میں ایک دوسرے کو مدد دیویں اور سب متفق ہو کر اس معرکہ کے لئے اٹھیں اور بعض بعض کے پشت پناہ بن جائیں اور ایک جاہل با خبر