The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 566

The Light of Truth — Page 254

254 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE والدين؟ وإن كنت تحسب نفسك شيئا من الأشياء، وتظن أنك من الأدباء، فها أنا قمت لاستبراء زندك، واستشفاف فِرِندِك، و ابتدعتُ هذه الرسالة العُجالة في العربية لهذه الأغراض الضرورية، وهى تحتوى على غُرر البيان ودرره، وملح الأدب ونوادره، ووشحتها بمحاسن الكنايات وبترصيع لآلي النكات في العبارات، وفيها كثير من الأمثال العربية، واللطائف الأدبية، والأشعار المبتكرة، والقصائد المحبرة، ولم أودعها من الأشعار الأجنبية بل كلها نتائج خاطرى وثمار شجراء فكرى؛ وما فعلتُ هذا إلا لأسبر به غَيْرَ عقلك ومقدار فضلك، وأرى مبلغ علمك وعذوبة منطقك، وأُرِي الخَلْقَ أإنّك صادق فى دعواك وأهل لبلواك، وهل لك حق أن تصول على كتاب الله القرآن وبلاغته وسفر الله الرحمن ورياغته كما أنت زعمت أو من الكاذبين الدجالين. وإني أُلهمت من ربي أنك لا تقدر على هذا النضال، ويبدى الله عجزك ويخزيك ويُثبت أنك أسير في الجهل والضلال، ولو اجتمعت قومك معك على هذا الخيال، فترجعون مغلوبين هذا مع اعترافي بأن هذه الرسالة ليست سباق الغايات في توشيح المقال، بل اقتضبتها على جناح الاستعجال، وأعلم أن الإتيان بمثلها أمر هين على الأدباء، بل يكفى فى هذا أدنى التفات البلغاء. فإن اتسعت في الأدب فليس جا کہ تیری پتھری کی آگ نکالنے کے لئے میں کھڑا ہو گیا ہوں اور تیری تلوار کا جو ہر دیکھنے کے لئے میں اٹھا ہوں اور اس رسالہ عجالہ کو میں نے عربی میں اسی غرض سے تالیف کیا ہے اور یہ رسالہ نادر اور چمکیلے بیانوں سے پُر ہے جو موتیوں کی طرح ہیں اور نیز ادب کی نمکین عبارتوں پر مشتمل ہے اور میں نے اس کو بہت عمدہ کنایات اور نکات لطیفہ کے موتیوں سے موشح اور مرصع کیا ہے اور اس میں امثال عربیہ بہت ہیں اور لطائف ادبیہ بکثرت ہیں اور اسی طرح اشعار نو طرز اور خوبصورت قصیدے بھی اس میں ہیں اور میں اس کتاب میں اشعار اجنبیہ نہیں لایا بلکہ وہ سب میری طبیعت کے نتیجے اور میری زمین کے پھل ہیں اور میں نے یہ اس لئے کیا کہ تا تیری عقل کا عمق اور تیری فضیلت کا مقدار آزماؤں اور تیرا اندازہ علم اور شیرینی کلام کو دیکھوں کیا تو اپنے دعویٰ میں سچا اور اپنے شور و شر کا اہل ہے اور کیا تجھے حق ہے کہ تو کتاب اللہ قرآن پر حملہ کرے اور خدا تعالیٰ کے صحیفوں کی بلاغت اور اس کے میدان کشتی گاہ کی نسبت نکتہ چینی کرے سو میں نے چاہا کہ دیکھوں کہ تو اپنے دعووں میں سچا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے اور مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ تو اس مقابلہ پر قادر نہیں ہو گا اور خدا تعالیٰ تیر اعجز ظاہر کر دے گا اور تجھے رسوا کر دے گا اور ثابت کرے گا کہ تو گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیال مقابلہ میں تجھ سے متفق ہو جائے مگر آخر تم مغلوب ہو جاؤ گے یہ باوجود میرے اس اقرار کے ہے کہ یہ رسالہ اپنی بلاغت میں کوئی اعلیٰ درجہ کے کمال پر نہیں بلکہ میں نے جلد جلد اس کو گھسیٹ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس کی نظیر بنانا ادیبوں پر بہت ہی آسان ہے بلکہ اُن کی ادنیٰ التفات اس کی نظیر بنانے کے لئے کافی ہے پس اگر تو فن ادب میں وسیع مہارت رکھتا ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس سے زیادہ تر شیریں اور زیادہ تر فصیح