The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 566

The Light of Truth — Page 252

252 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE بيتًا أو بيتين؟ فَإِنْ ادّعيتَ فَأْتِ ببرهان مبين. وأنت تعلم أنى خاطبتك في البراهين إذ صلت على القرآن والدين المتين، وما كان خطابى إلا لأبدى على الناس جهلك الشديد، وذهنك البليد، فقلت إن كنت تزعم أنك تعلم العربية فأرنا مهارتك الأدبية، ونحن نقص عليك قصةً في لسان فترجمه في العربية بأحسن بيان إن كنت فيها من الماهرين. وإن ترجمت فلك خمسون روبية إنعاما، ثم نقر بفضلك ونكرمك إكرامًا، ونحسبك من الفضلاء المسلمين المرتدين ولكنك سكت كالأنعام، وما ملت إلى الإنعام، وما نبست بكلمة الخير والشر خوفًا من هتك الستر وفضوح الحصر، فثبت أنك غبى قصير الرسن، وما أصابك حظ من اللسن، وما حرصت في الإنعام لأنك كنت جاهلا كالأنعام، وما كان لك حظ من العربية بل ما كنت من الماسين. فعلمتُ بعلم قطعى أنك لا تعلم العربية، ولا تستطيع أن تخترق في مسالكها وتنصلت في سبلها وسككها، وما فيك إلا حُمَةُ لاسع، لا حميم فهم واسع، فلا تَفْجُس ولا تغل يا أسفل السافلين. أأنت مع جهلك هذا تقدح في القرآن، وتزرى على كتاب فاق فصاحته نوع الإنسان، ولا ترى صورتك ولا تنظر إلى مبلغ علمك يا مضيع العقل ۱. ترجمہ سے ظاہر ہے کہ اصل لفظ المتبحرین تھا۔ شمس جبکہ تو نے قرآن شریف پر اور دین اسلام پر حملہ کیا تھا اور میر امخاطب کر نا صرف اسی وجہ سے تھا کہ تا تیرا کند ذہن اور سخت جاہل ہونا لوگوں پر ظاہر کروں پس میں نے کہا کہ اگر تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو عربی جانتا ہے سو ہمیں اپنی مہارت ادبیہ دکھلاؤ اور ہم ایک قصہ کسی زبان میں تجھ کو سنائیں گے اور تجھ پر واجب ہو گا کہ تو اس کی عبارت کو عربی بنا کر دکھلا دے پھر ہم تمہاری بزرگی کے اقراری ہو جائیں گے اور تیری تعظیم کریں گے اور تجھ کو متبحر فاضلوں میں سے تسلیم کریں گے مگر تو چارپایوں کی طرح چپ ہو گیا اور انعام لینے کی طرف رخ نہ کیا اور تو جواب میں چپ ہی کر گیا نہ کچھ نیک کہا نہ بد کیونکہ اس میں تیری پردہ دری اور رسوائی تھی پس ثابت ہوا کہ تو ایک غبی کم استعداد آدمی ہے اور تجھ کو عربی زبان سے کچھ بھی حصہ نہیں اور تو نے انعام لینے کی طرف رغبت نہ کی کیونکہ تو ایک جاہل چارپایوں کی طرح تھا اور عالموں میں سے نہیں تھا۔ پس میں نے قطعی علم کے ساتھ جان لیا کہ تو زبان عربی بالکل نہیں جانتا اور تجھے طاقت نہیں کہ اس کے کوچوں میں چل سکے اور اس کی تنگ راہوں میں گزر سکے اور تجھ میں تو صرف نیش نیش زنندہ ہے اور ایک قطرہ بھی علم وسیع کے مینہ میں سے تیرے پاس نہیں ہے پس تو اے اسفل السافلین بزرگ منشی مت دکھلا۔ کیا تو باوجود اپنی اس نادانی کے قرآن میں جرح قدح کرتا ہے اور اس کتاب کا عیب ڈھونڈتا ہے جس کی فصاحت نوع انسان کی فصاحتوں پر غالب آگئی اور اپنی شکل کو نہیں دیکھتا اور اپنے اندازہ علم کی طرف نگاہ نہیں کرتا اے دین اور عقل کے دشمن یہ تو کیا کرتا ہے۔ اور اگر تو اپنے نفس کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ تو بھی ایک ادیبوں میں سے ہے پس خبر دار ہو