The Light of Truth — Page 250
250 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE على ألفاظ مقبولة سواء كانت من لسان القوم أو من كلم منقولة مستعملة في بلغاء القوم غير مجهولة، وسواء كانت من لغة قوم واحد ومن محاوراتهم على الدوم، أو خالطها ألفاظ استحلاها بلغاء القوم، واستعملوها في النظم والنثر من غير مخافة اللوم، مختارين غير مضطرين. فلما كان مدار البلاغة على هذه القاعدة فهذا هو معيار الكلمات الصاعدة فى سماء البلاغة الراعدة، فلا حرج أن يكون لفظ من غير اللسان مقبولا في أهل البيان، بل ربما يزيد البلاغة من هذا النهج في بعض الأوقات، بل يستملحونه في بعض المقامات، ويتلذذون به أهل الأفانين. ولكنك رجل غَمْرُ جَهولٌ، ومع ذلك معاند وعجول، فلأجل ذلك ما تعلم شيئا غير حقدك وجهلك، وما تضع قدمًا إلا في دخلك، ولا تدرى ما لسان العرب وما الفصاحة، ولا تصدر منك إلا الوقاحة، وما لقنتَ إلا سب المطهرين. فاترك أيها الغافل سيرة الأشرار، واستح وانظر وجهك في مرآة الأفكار. هل قرأت شيئا في مدة عمرك من فن الأدب، أو عرفت فى طرقه أفانين الوهد والحدب، أو ألفت قط بين كلمتين، ونظمت اور ان کے دائمی محاورات میں سے ہوں یا ایسے ا الفاظ اُن میں مل گئے ہوں جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم ہوئے اور انہوں نے ان کے استعمال اپنی نظم اور نثر میں جائز رکھے ہوں اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے ہوں پس جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا پس یہی قاعدہ ان عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان پر چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں پس اس بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر بلغاء نے اس کو قبول کر لیا ہو بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے بلکہ بعض مقامات میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملیح اور نمکین سمجھتے ہیں اور تفنن عبارات کے عشاق اس سے لذت اٹھاتے ہیں مگر تو تو اے معترض ایک غبی اور جاہل ہے اور باوجود اس کے تو جلد باز اور دشمن حق ہے اسی لئے تو بغیر کینہ اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا اور بغیر گڑھے کے اور کسی جگہ قدم نہیں رکھتا اور تو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور فصاحت کسے کہتے ہیں اور صرف بے حیائی تجھ میں ہے نہ اور کوئی لیاقت اور تجھ کو تو کسی نے سکھایا ہے کہ تو پاکوں کو گالیاں دیتار ہے۔ سواے غافل شریروں کی خصلت چھوڑ دے اور کچھ شرم کر اور ذرا اپنے منہ کو فکر کے شیشہ میں دیکھ کہ کیا تو نے مدت عمر میں کبھی فن ادب سے کچھ پڑھا ہے یار نگینی عبارات کے نشیب و فراز تجھے معلوم ہیں یا کبھی تو نے دو عربی کلموں کو جوڑا یا ایک دو بیت بنائے پس اگر تو دعویٰ کرے تو اس بات کا ثبوت پیش کر۔ اور تجھے معلوم ہے کہ میں نے براہین میں بھی تجھے مخاطب کیا تھا