The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 566

The Light of Truth — Page 248

248 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الأدباء المشهورين والفصحاء الماهرين. ولكنهم ما سروا ذلك المسرى، وما قدحوا في هذا الدعوى، بل قبلوا أعلى مراتب بلاغته، وعجبوا لعلو شأن فصاحته، وقالوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ . وأكثرهم آمنوا بإعجازه وأقروا بتناوش بازه، وعجزوا عن درك هندازه، وقالوا كلام فاق كلمات البشر، وكله لب وليس معه شيء من القشر، وعليه طلاوة، وفيه حلاوة، وهو غَدَق لا ينفد من شرب الشاربين. وما نبسوا بكلمة في قدح شأنه وما فاهوا بكلام في جرح بيانه، ونسوا جمال الفكر في ميدانه، ثم رجعوا مرعوبين نادمين، وأكثرهم كانوا يبكون عند سماعه ويسجدون باكين. هذا ما نجد في القرآن الكريم وأحاديث النبي الرؤوف الرحيم، إيمانًا وديانةً وصدقا وأمانةً، وما نجد كلمةً خلاف ذلك من أسلاف النصارى أو المشركين، وكانوا خيرا منكم في تنقيد الكلمات يا معشر الجاهلين. وأما ما ظننت أن فى القرآن بعض ألفاظ غير لسان قريش، فقد قلت هذا اللفظ من جهل وطيش، وما كنت من المتبصرين. اعلم أيها الغبى والجهول الدني، أن مدار الفصاحة 1. سورة الأنعام: 8 الناشر اس کی حقیقت کی دریافت سے عاجز رہ گئے اور کہا کہ یہ ایک کلام ہے کہ کلمات بشر پر غالب آگیا اور وہ سارے کا سارا مغز ہے اور اس کے ساتھ چھلکا نہیں اور اس پر ایک آب و تاب ہے اور اس میں ایک حلاوت ہے اور وہ ایک بے اندازہ اور بکثرت مصفا پانی ہے جو پینے والوں کے پینے سے ختم نہیں ہوتا۔ اور قرآن کے قدح شان میں وہ کوئی کلمہ منہ پر نہ لائے اور اس کی جرح میں انہوں نے کوئی بات منہ سے نہ نکالی اور اس کے میدان میں انہوں نے فکر کے اونٹ دوڑائے تو سہی مگر خوفناک اور شرمندہ ہو کر رجوع کیا اور اکثر ان کے قرآن کو سن کر روتے اور سجدہ کرتے تھے۔ یہ وہ بیان ہے جو ہم قرآن کریم میں پاتے اور نبی رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پڑھتے ہیں اور ہم نے اس کو ایمانا اور دیانتا اور امانتاً لکھا ہے اور ہم اس کے برخلاف کوئی ایسا قول بھی نہیں پاتے جو اس وقت کے نصاری اور مشرکوں کے منہ سے قرآن کی شان کے بر خلاف نکلا ہو اور اے نادانو وہ نصاریٰ قرآن کی پرکھ میں تم سے بہتر تھے۔ اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض ایسے الفاظ ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں سو یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے ہے اور بصیرت کی راہ سے نہیں۔ اے غبی اور سفلہ نادان تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ پر ہوا کرتا ہے خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال میں آگئے ہوں اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں