The Light of Truth — Page 246
246 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE متندمين مغتاظين وكثير منهم أسلموا نظرًا على هذه المعجزة كلبيد بن ربيعة العامري، صاحب المعلقة الرابعة، فإنه أدرك الإسلام وتشرف به وأرى الإخلاص التام، ومات سنة إحدى وأربعين. وكذلك كثير منهم أقروا بأنّ القرآن مملو من العبارات المهذبة، والاستعارات المستعذبة، والأفانين المستملحة، والمضامين الحكمية الموشحة، بل من أمعن منهم النظر فسعى إلى الإسلام وحضر ودخل في المؤمنين. فلو كان القرآن متنزلا من أعلى مدارج الكمال في فصاحة المقال وبلاغة الأقوال، لكان الأمر أسهل على المخالفين، ولقالوا أيها الرجل إن الكلام الذي عرضت علينا والحد يث الذي أتيته لدينا ليس بفصيح بل ليس بصحيح، ولا نجد فيه غير المعاني المطروقة الموارد والكلام الرقيق البارد، وما جئت بأطيب وأحلى، وفيه ألفاظ كذا وكذا، وإنك أسقطت في كلامك وباعدت عن مرامك ولست من المجيدين؛ فلا حاجة إلى أن نأتى بمثله من الأقوال، أو نتوازن في المقال، ونتحاذى حذو النعال، فإليك عنا وتجاف، واترك الأوصاف، فإن كلامك سقط عند ربیعة العامری جو معلقہ رابعہ کا مصنف ہے اس نے اسلام کا زمانہ پایا اور مشرف باسلام ہوا اور پورا اخلاص دکھایا اور سن اکتالیس میں فوت ہوا۔ اور اسی طرح بہتوں نے ان میں سے قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کو قبول کر لیا اور اقرار کر لیا کہ در حقیقت قرآن عبارات پاکیزہ سے پر اور شیریں استعارات سے مالا مال اور ملیح تقریروں اور آراستہ اور حکمیہ مضمونوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ جس نے اس میں نظر غور کی سو وہ اسلام کی طرف دوڑا اور ایمان والوں میں داخل ہوا۔ پس اگر قرآن فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ مدارج سے متنزل ہوتا تو مخالفوں پر بات بہت آسان ہو جاتی۔ اور وہ کہہ سکتے تھے کہ اے مرد جو کلام تو نے پیش کی ہے اور جو بات تو لایا ہے وہ فصیح نہیں ہے بلکہ صحیح بھی نہیں ہے اور اس میں معانی مطروقہ الموارد پائے جاتے ہیں اور اس میں الفاظ رقیق موجود ہیں اور تو نے اپنی کلام میں غلطی کی ہے اور مطلب سے دور جا پڑا ہے اور کوئی نکتہ تیری کلام میں نہیں بلکہ اس میں تو ایسے ایسے لفظ ہیں پس کچھ حاجت نہیں کہ ہم اس کی کوئی نظیر بناویں یا اس سے نعل بنعل مقابلہ کریں ہم سے الگ ہو اور اپنی کلام کی تعریفیں چھوڑ دے کیونکہ تیرا کلام مشہور ادیبوں کے نزدیک رڈی ہے مگر کفار عرب اس راہ نہیں چلے اور اس دعویٰ میں انہوں نے کچھ جرح قدح نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو قرآن کے اعلیٰ مراتب بلاغت کو قبول کر لیا اور اس کی عظیم الشان فصاحت سے تعجب میں رہ گئے اور کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ اور اکثر ان کے اس قرآنی معجزہ پر ایمان لائے اور اقرار کر لیا کہ اس کے باز کی سخت پکڑیں ہیں اور