The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 566

The Light of Truth — Page 244

244 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE العرب في زمانه كانوا فصحاء العصر وبلغاء الدهر، وكان مدار تفاخرهم على غُرَر البيان ودُرَرِه وثمار الكلام وزهره، وكانوا يناضلون بالقصائد المبتكرة والخطب المحبرة، ولكن ما كان لهم أن يتكلموا في اللطائف الحكمية، وما مست بيانهم رائحة المعارف الإلهية، بل كان مسرح أفكارهم إلى الأبيات العشقية، والأضاحيك الملهية، وما كانوا على ترصيع مضامين الحكم قادرين. وكانوا قد مرنوا من سنين على أنواع النظم والنثر ولطائف البيان، وسلّموا وقبلوا في الأقران، وكانوا أهل اللسان وسوابق الميادين. فخاطبهم الله وقال إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ --- فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ وقال قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنِّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا فعجز الكفار عن المقابلة وولوا الدبر كالمغلوبين. ولما عجزوا عن النضال في البيان، مالوا إلى السيف والسنان 1. البقرة : ۲۴, ۲۵ الناشر ۲. بنی اسرائیل : ۸۹ الناشر عرب اس کے زمانہ میں فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر کرنے کا مدار فصیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا اور نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں نو ایجاد قصیدوں اور پاکیزہ خطبوں کے ساتھ ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا سلیقہ نہ تھا اور ان کے بیان کو معارف الہیہ کی بو بھی نہیں پہنچی تھی بلکہ ان کے فکروں کا چراگاہ صرف عشقیہ شعروں اور ہنسانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں تک تھا اور مضامین حکمیہ کی مرصع نگاری پر وہ قادر نہ تھے حالانکہ وہ ایک زمانہ سے نظم اور نثر اور لطائف بیان کے مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے اور اہل زبان اور میدانوں میں سبقت کرنے والے تھے۔ پس خدا تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں اس کلام میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو تم بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنا نہ سکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے سو اس آگ سے ڈرو جس کے ہیزم افروختنی آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔ اور فرمایا کہ اگر تمام جن و انس اس بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنا لاویں تو ہر گز نہیں لا سکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ پس کفار مقابلہ سے عاجز آ گئے اور مغلوب ہو کر پیٹھیں پھیر لیں اور جب خوش تقریری کی لڑائیوں سے عاجز آگئے تو شرمندہ اور غضبناک ہو کر تلوار اور نیزہ کی طرف جھک گئے اور بہت سے ان میں سے اعجاز بلاغت قرآن کو تسلیم کر کے ایمان لائے جیسا کہ لبید بن