The Light of Truth — Page 242
242 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ثم إنك ظننت أن القرآن ليس في بلاغته إلى حد الإعجاز، بل يوجد فيه رائحة التكلف والارتماز، ولا يميز رقيق اللفظ من الجزل، والجِدَّ من الهزل، وفيه ألفاظ وحشية وكلمات أجنبية، وليس بعربى مبين. أما الجواب فاعلم أن هذا القول منك ومن أمثالك أعجب العجائب وأعظم الغرائب، ولا يرضى به أحد من المنصفين. ألا تعلم يا مسكين أنك رجل من الجهال، وما تدرى إلا مكائد الضلال، ولا تعلم أساليب لسان العرب وطرق بلاغة المقال؟ بل أظن أنك لا تعرف حرفا من العربية، فكيف اجترأت على هذه الغذمرة الكريهة؟ أتصول أيها الجاهل الكاهل على الذي أفحم أكابر بلغاء الزمان، وأتم الحجة على فصحاء أهل اللسان، وخضعت له أعناق الأدباء، و آمن به نوابغ الشعراء، وجاء وا خاضعين مقرين؟ أأنت أسبق منهم في معرفة مواد الأقاويل وتمييز الصحيح من العليل، أو أنت من المجنونين؟ ألا تعلم أنهم كانوا أهل اللسان، وقد غُذُوا بلبان البيان، وكان يُصبون القلوب بأفانين العبارات وملح الأدب ونوادر الإشارات، وكانوا في هذه السكك وعلم محاسنها من الماهرين؟ ألست تعلم أن القرآن ما ادعى إعجاز البلاغة إلا في الرياغة، فإن پھر تو نے یہ گمان کیا ہے کہ قرآن اپنی بلاغت میں حد اعجاز تک نہیں بلکہ اس میں تکلف اور اضطراب کی بو پائی جاتی ہے اور وہ ہزل اور رقیق لفظوں سے خالی نہیں اور اس میں وحشی الفاظ اور اجنبی کلمات ہیں اور فصیح عربی نہیں سو اب میں تیرا جواب لکھتا ہوں پس جان کہ کہ یہ یہ قول تجھ سے اور اوروں سے جو تیری مانند ہیں نہایت عجیب ہے اور کوئی منصف اس سے راضی نہیں ہو گا۔ اے مسکین تو تو نادانوں میں سے ایک نادان آدمی ہے اور بجز گمراہی کے فریبوں کے اور کچھ تجھے معلوم نہیں اور تجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ لسان عرب کے اسلوب کیا ہیں اور بلاغت کی راہیں کون سی ہیں بلکہ میں گمان کرتا ہوں کہ تو عربی کا ایک حرف بھی نہیں جانتا۔ پس کیونکر تو نے اس آوازِ مکروہ پر جرآت کی اے جاہل کاہل کیا تو اس کلام پر حملہ کرتا ہے جس نے بڑے بڑے بلغاءِ زمانہ کو ساکت کر دیا اور زمانہ کے مشہور فصیحوں پر اپنی حجت پوری کی اور ادیبوں کی گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور شعراء میں بڑے بڑے نابغہ اس پر ایمان لائے اور اقراری اور فروتن بن کر اس کی طرف رجوع کر لیا کیا زبان شناسی میں تو ان سے بڑھا ہوا ہے اور صحیح اور غیر صحیح میں فرق کرنے میں تو زیادہ طاقت رکھتا ہے یا تو دیوانہ ہے ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ وہ لوگ اہل زبان تھے اور خوش تقریری کے دودھ سے پرورش یافتہ تھے اور رنگا رنگ کی عبارات اور عجیب اشارات سے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے اور ان کوچوں میں اور علم محاسن بیان میں ماہر تھے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے اعجاز بلاغت کا دعوی کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ