The Light of Truth — Page 240
240 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE اللعين. وأما قياسه على أفضل الرسل وخير الأنبياء، فقياس مع الفارق وبعيد عن الحياء وقد قال نبينا صلى الله عليه و سلم لِعُمَرَ ما لقيك الشيطان في فَجٍّ إلا سلك فجا غير فجك، ويثبت من هذا الدليل أن الشيطان يفرّ من عمر كالجبان الذليل، وأما المسيح فيسمى أفضل صحابته شيطانا في الإنجيل، فانظر الفرق بينهما خائفا من الرب الجليل، ولا تبادر إلى سبل الشياطين. ثم إذا كانت القوة كله للشيطان فما بال إلهكم الضعيف الذى ما له قبل بهذا السرحان، بل تبعه كالمغلوب أو كمحتاج ذى الكروب، وقاده الشيطان بمكر عجيب، ودعاه إلى إغرار غريب. والعجب أنه مع دعاوى الألوهية وإدلال الإبنية، تبعه بحسن الظن وما فهم أنه حُوَّلٌ قُلَّبُ، ووعده بَرْقٌ خُلَّبٌ، وهو رئيس الكاذبين. وأنتم تعلمون اليهود كانوا يقولون للمسيح إنك ما تُرى الخوارق من الرحمن بل من الشيطان، ومعك شيطان من الشياطين. ثم إن كان هذا هو الحق أعنى إذا فرضنا أن القوة كله للشيطان الذليل، فما جاء في الإنجيل بكمال التفصيل أن يسوع رجع بقوة الروح إلى الجليل لا يكون صحيحًا، بل كذبًا صريحًا وتحريف المحرفين، ويكون المراد من الروح شيطانا من الشياطين. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور ایسا قیاس حیا سے بعید ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ میں پاوے تو دوسری راہ اختیار کرے اور تجھ سے ڈرے۔ اور اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان حضرت عمر سے ایک نامرد ذلیل کی طرح بھاگتا ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے بڑے صحابی کو شیطان فرمایا پس خدا کے خوف سے دیکھ کہ ان دونوں باتوں میں کس قدر فرق ہے اور شیطانوں کی راہ کی طرف مت دوڑ ۔ پھر جبکہ تمام قوتیں شیطان کے لئے ہی ٹھہریں تو تمہارے اس کمزور خدا کا کیا حال ہے جو اس سے مقابلہ نہ کر سکا بلکہ ایک مغلوب اور حاجت مند کی طرح اس کے پیچھے لگ گیا اور ایک مکر عجیب کے ساتھ شیطان نے اس کو کھینچا اور ایک عجیب دھوکا کی طرف اس کو بلایا اور تعجب کہ وہ باوجود خدائی کے دعوے اور ابن اللہ ہونے کے ناز کے پیچھے لگ گیا اور نہ سمجھا کہ وہ بڑا حیلہ ساز اور متفنی ہے اور اس کا وعدہ برق بے باران ہے اور وہ جھوٹوں کا سردار ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ یہود مسیح کو کہا کرتے تھے کہ تو خداتعالیٰ کی طرف سے نشان نہیں دکھلاتا بلکہ ایک شیطان کی مدد سے دکھاتا ہے۔ پھر اگر ہم فرض کریں کہ سب قوت شیطان ہی کو ہے تو اس صورت میں انجیل کا وہ فقرہ صحیح نہ ہو گا جو یسوع گلیل کی طرف روح کی قوت سے گیا تھا بلکہ کہنا پڑے گا کہ روح سے مراد شیطان ہے۔