The Light of Truth — Page 238
238 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وأما استدلاله من لفظ شديد القوى على الشيطان، ووهمه أن القوة كله لهذا السرحان، لا الله ولا لِمَلَكِ الرحمن، فلأجل ذلك خُص بهذا الاسم في القرآن، فلا نفهم سر هذه الأقاويل، ولا نجد فيها رائحة من الدليل؛ فلعله كذلك قرأ في الإنجيل أو استنبط من قصة إبليس إذا أتى المسيح كالفيل، وقاده بقوته العظمى إلى بعض جبال الجليل، وجربه بالأباطيل، وما استطاع المسيح أن لا يميل إليه مِن قَوْدِه، ولا يخطو إلى طوده، ويأخذ بفوده، ويزيل لظاه بجوده ، بل مشى تِلْوَه كالضعفاء المستضعفين. فإن كان مبدأ الوهم هذا الخيال، كما أنى أخال، فلا ننكر واقعة المسيح، ونؤمن به كالأمر الصحيح، ونقر بأن شيطان ذلك المسيح كان شديد القوى، فلذلك قاده إلى جبال على، وقال اسجد لى، أعطيك دولة عظمى، وملكا لا يبلى، وطمع فى إيمان ضعيف غريب، ووثب عليه كذئب رغيب، وما تركه إلا إلى حين ولفظ الحين موجود في إنجيل لوقا باليقين، فلينظر من كان من المرتابين. ولا شك أن الشيطان إذا أتى بعد زمان، فعلم التثليث عند لقاء ثان، وأهلك الهالكين، لأن اللقاء كان من مواعيد الشيطان مگر اس شخص کا شدید القویٰ کے لفظ سے شیطان پر استدلال پکڑنا اور یہ وہم کرنا کہ شدید القویٰ اس لئے قرآن میں شیطان کا نام ہے کہ تمام قوتیں اسی بھیڑئیے کو حاصل ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اور نہ اس کے کسی فرشتہ کو حاصل ہیں سو ہم اس کے اس قول کا بھید نہیں سمجھتے اور ہم اس میں کسی دلیل کی بو نہیں پاتے پس اس نے شاید اسی طرح انجیل میں پڑھا ہے یا اس خیال کو مسیح کے اس قصہ سے استنباط کیا ہے جب شیطان ہاتھی کی طرح اس کے پاس آیا اور ایک بڑی قوت کے ساتھ گلیل کے ایک پہاڑ پر ا اس کو لے گیا اور اپنے اباطیل کے ساتھ اس کی آزمائش کی اور مسیح سے یہ نہ ہوا کہ اس کی طرف جانے سے اپنے تئیں روک لے اور اس کے پہاڑ کی طرف قدم نہ اٹھا وے اور اس کے سر کو پکڑ لے اور اور اپنے منہ سے اس کی آگ کو نابود کرے بلکہ مسیح تو اس کے پیچھے کمزوروں کی طرح چل پڑا پس اگر اس وہم کا اصل موجب یہی خیال ہے جیسا کہ میں گمان کرتا ہوں پس ہم اس واقعہ سے انکار نہیں کرتے اور امر صحیح کی طرح اس کو مان لیتے ہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ ایسے مسیح کا شیطان در حقیقت شدید القوی ہی تھا اسی وجہ سے تو وہ اس کو پہاڑوں کی طرف کھینچ کر لے گیا اور کہا کہ مجھے سجدہ کر تجھے دولت اور بڑا ملک دوں گا اور ایک ضعیف غریب آدمی کے ایمان میں اس نے طمع کی اور حرص کی وجہ سے بھیڑئیے کی طرح اس پر حملہ کیا اور پھر اس سے دوبارہ آنے کا پختہ ارادہ رکھ کر دور ہو گیا اور حین کا لفظ انجیل لوقا میں بالیقین موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ اور کچھ شک نہیں کہ جب شیطان دوسری مرتبہ آیا تو اس نے تثلیث سکھلائی اور مرنے والوں کو مارا کیونکہ دوسری مرتبہ آنا شیطان کا وعدہ تھا مگر مسیح کے شیطان شدید القوی کا قیاس