The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 566

The Light of Truth — Page 180

180 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE على وجوههم باكين، وعرفوا أنهم قد خُدعوا بل جُدعوا ومن القوم قدعوا، فضربوا على خدودهم قائلين يا ويلنا إنا كنا منهوبين مخدوعين. ثم ألقوا على رؤوسهم غبار الصحراء، وصعدت صرخهم إلى السماء، وجمعوا الناس حولهم من شدة الجزع والفزع والبكاء . فجاءهم القوم مهرعين، فسألوا عن بلاء نزل وجُرح ابتزل، وعن مصيبة مذيبة للقلوب وداهية مهيّجة للكروب، واستفسروا من تفاصيل المصيبة وكيفية القصة. فعافُوا أن يبينوا خوفًا من طعن الناس والخزى بين العوام والخواص، ومع ذلك كانوا صارخين . فقال القوم ما لكم لا ترقأ دمعتكم ولا تسكن زفرتكم، أظلمتم من قوم عادين؟ لم تسترون الحقيقة وتزيدون الكربة، ألا ترون إلى لوعة كرب المحبّين؟ فصاحوا صيحة المغبون، واستحيوا من إظهار الكمد المكنون، ثم بيّنوا القصة وأبدوا الغُصّة، وما كادوا أن يبيّنوا، ولكن عجزوا عن إصرار المصرين. فلامهم كلُّ أحد من العقلاء، ومطرت من كل جهة سهام العُذلاء، فنكسوا رؤوسهم متندمين. وقال المعيرون يا معشر الحمقاء وأئمة الجهلاء، ألستم علمتم أنه جاءكم فقير بادي الخذلان، وعليه بردان رتان كالعُثان؟ فمن كان في أطمار كيف يهبكم رياش أفخار، وينجيكم من أسر أوطار؟ أما رأيتم مونہوں پر گرے اور سمجھ گئے کہ ہمیں دھوکا دیا گیا بلکہ ہمارا ناک کاٹا گیا اور قوم سے ہم ہٹائے گئے تب انہوں نے اپنی گالوں پر یہ کہتے ہوئے طمانچے مارے ہمارے پر واویلا ہم تو لوٹے گئے دھوکا دیئے گئے پھر انہوں نے اپنے سروں پر جنگل کا گھٹا ڈال لیا اور ان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی تب قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور انہوں نے اس بلا سے نازل ہوئی اور اس زخم سے جس کا شگوفہ نکلا اور اس مصیبت سے جس نے دلوں کو گلایا اور اس حادثہ سے جس نے بے قراری پیدا کی دریافت کیا اور مصیبت کی تفصیل دریافت کی اور اس قصہ کی کیفیت پوچھی سو انہوں نے بیان کرنے سے دل چرایا کیونکہ وہ لوگوں کے لطن طعن اور خاص و عام میں رسوا ہونے سے ڈرے مگر باوجود اس کے فریاد کر رہے تھے۔ پس قوم نے کہا کیا سبب کہ تمہارے آنسو نہیں تھمتے اور تمہاری چینیں کم نہیں ہوتیں کیا تم پر کسی ظالم نے ظلم کیا کیوں تم حقیقت کو چھپاتے اور اپنے دوستوں کی بے قراری کو زیادہ کرتے ہو۔ پس انہوں نے پھر ایک چیخ ماری جو ایک زیاں رسیدہ مارتا ہے اور چھپے ہوئے غم کے ظاہر کرنے سے شرم کی پھر قصہ کو کھول دیا اور غصہ ظاہر کر دیا اور نہیں چاہتے تھے کہ ظاہر کریں لیکن اصرار کرنے والوں کے اصرار سے عاجز آگئے۔ پس ہر یک عقلمند نے ان کو ملامت کی اور ملامت کرنے والوں کے ہر یک طرف سے تیر برسے۔ پس انہوں نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لئے اور ملامت کرنے والوں نے کہا کہ اے احمقو اور جاہلوں کے پیشواؤ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ ایک محتاج تمہارے پاس آیا جس کی بے عزتی کھلی کھلی تھی اور اس پر پرانی چادریں دھوئیں کی طرح تھیں سو جو شخص آپ ہی پرانی چادریں رکھتا تھا وہ تمہیں لباس فاخرہ کہاں سے دیتا اور کیونکر تمہاری حاجت روائی کرتا کیا تم نے افلاس کے آثار اس میں نہیں پائے تھے پھر کیوں تم اس کے فریفتہ ہو گئے کیا تم چار پائے تھے یا آدمی تھے پھر قطع نظر اس سے یہ باتیں بھی از قبیل خرافات اور قانون قدرت سے بعید تھیں اور خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ سے دور تھیں پس اگر تم عقلمند تھے تو کیوں اس شخص کو اور اس کی باتوں کو قبول کر لیا۔