The Light of Truth — Page 178
178 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE نبذت عُلق الدنيا كلها، وتركت كُثْرَها وقُلها، وما يسرنى إلا ذكر المسيح ربّ العالمين (لعنة الله على الكاذبين) ولكني كلفت نفسى لكم بما رأيتكم من قبائل الشرفاء ووجدتكم كأطلال الأمراء وفي الضراء بعد النعماء، وبما تحققت المصافاة وانعقدت المودات فهاجت رحمتی و ماجت شفقتي، وجذبني بختكم المحمود ونجمكم المسعود، فأردت أن أجعلكم كالسلاطين. وسأرجع إليكم مع الجنى الملتقط، فانتظروا بالقلب المغتبط، سترون بيضاء وصفراء كحليلة جميلة زهراء، وأوافيكم كالمبشرين المستبشرين. فذهب وتركهم مغبونين. فما فهموا أنه غَرَّ وطلب المفرّ، وفرحوا بتصور حصول المراد، ولبثوا يرقبونه رقبة أهلة الأعياد، وينتظرونه انتظار أهل الوداد متنافسين، إلى أن تلبست الشمس كالمتندمين نقابها، وسوّدت كالمحزونين ثيابها، وألغت كالمخدوعين حسابها، واختفت بوجه مصفر كالمنهوبين. فلما طال أمد الانتظار، وتجاوز الوقت من موعد المكار، وأضاعوا في رقبة الزمان، وبان أن الرجل قد مان، نهضوا كالمجانين، وسعوا إلى كل طرف مفتشين، وعدوا إلى اليمين واليسار مرتعدين، بتصور الحلى الكبار وفكر هتك الأستار . فلما استيأسوا منه كالثكلى سقطوا كالموتى، وأكبّوا پیرانہ سالی میں یہ مشقت اپنے پر اٹھاؤں اور میرے بدن میں یہ قوت بھی نہیں کہ اتنی دور جاسکوں اور میں دنیا کے تمام علاقے چھوڑ بیٹھا ہوں اور مجھے بجز اس کے کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتا جو مسیح کا ذکر کرتا رہوں جو رب العالمین ہے۔ مگر میں نے تمہارے لئے یہ کلفت اٹھائی کیونکہ میں نے شریف قبیلوں میں سے تمہیں پایا اور میں نے دیکھا کہ تم امیروں کے باقی ماندہ نشان اور بعد نعمت کے سختی میں پڑے ہو اور اس لئے بھی کہ ہم میں اور تم میں بہت پیار ہو گیا ہے اور دوستانہ ربط ہو چکا ہے سو میری رحمت اور شفقت تمہارے لئے اٹھی اور موجزن ہوئی اور تمہارے طالع محمود اور نیک ستارہ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا سو میں نے چاہا کہ تمہیں بادشاہ کی طرح بنادوں۔ اور میں عنقریب تازہ چنا ہو امیوہ لے کر تمہارے پاس آؤں گا سو آرزو مند دل کے ساتھ میرے منتظر رہو عنقریب تم سونے اور چاندی کے ایسے جلوہ کو دیکھو گے جیسے کہ ایک خوبصورت عورت سامنے آجاتی ہے۔ سو اس نے یہ کہا اور چلا گیا اور ان کو ٹوٹے میں چھوڑ گیا۔ سو انہوں نے نہ سمجھا کہ وہ دھوکا دے گیا اور بھاگ گیا اور مراد ملنے کے تصور میں وہ خوش ہوئے اور اسی جگہ ٹھہر کر ایسے طور سے اس کی انتظار کرتے رہے جیسا کہ عید کے چاند کی انتظار کی جاتی ہے اور جیسا کہ دوست دوست کا منتظر ہوتا ہے یہاں تک کہ سورج نے شرمندوں کی طرح اپنا منہ چھپالیا اور ماتم زدہ اور سخت غم ناک لوگوں کی طرح سیاہ کپڑے پہن لئے اور اپنے وجود کو دھوکا کھانے والوں کے مال کی طرح حساب سے نظر انداز کر دیا اور منہ زرد کے ساتھ ایسا چھپا جیسا کہ وہ لوگ زرد رنگ ہو جاتے ہیں جن کے مال لوٹے جاتے ہیں پس جبکہ انتظار کا زمانہ لمبا ہو گیا اور اس مکار کے وعدہ سے وقت بڑھ گیا اور جبکہ بہت سا وقت انہوں نے انتظار میں ضائع کیا اور کھل گیا کہ وہ آدمی تو جھوٹ بول گیا تو سودائیوں کی طرح اٹھے اور ہر یک طرف تلاش کرتے ہوئے دوڑے اور دائیں بائیں طرف دوڑتے ہوئے گئے اور بڑے یوروں کا خیال اور پردہ دری کا بھی فکر تھا پس جب کہ اس کے ملنے سے زن فرزند مردہ کی طرح نو امید ہو گئے تو روتے ہوئے اپنے