The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 566

The Light of Truth — Page 176

176 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE والمال المليح، ولا ترون نظيره في التنجية إلا كفارة المسيح، ويكفى لدينكم الكفارة ولدنياكم هذه الإمارة، فنجوتم في الدارين من تحريك اليدين ومن جهد الجاهدين. قالوا الأمر إليك والقلب لديك، وإنك اليوم لدينا مكين أمين . قال طوبى لكم ستُفتح عليكم أبواب المسرة وتُعطى لكم مفاتيح الدولة، بل أعلمكم رقيتي، لكى لا تضطربون عند غيبتى، ولكى تكون لكم دولة عظمى وملك لا يبلى . قالوا لا نستطيع إحصاء شكرك وإنك أكبر المحسنين. قال جَيْر، ما علّمتُ أحدًا هذا العمل من قبلكم، ولا أعلم بعدكم قومًا آخرين. فسألوا عنه سرَّ هذا التخصيص وحكمة تحديد هذا التبصيص، فأقسم بالأقنوم الذي يجير الجاني أنه ضاها في هذه العادة بالأقنوم الثاني، وجعلهم كالمسيح من المتفردين. ثم شمر ذيله ليطير كالعقاب، فغدا بإزعام الذهاب ولا اغتداء الغراب، وقال لهم عند الفرار يا سادات الأمصار وصناديد الديار، سآتيكم إلى نصف النهار، فانتظروني قليلا من الانتظار، ولا تأخذكم شيء من الاضطرار، فإن الرقية طويلة والبغية جليلة، والطبيعة عليلة والمسافة بعيدة، والبرودة شديدة، وما كنت أن أشق على نفسى فى هذا الضعف والنحافة، وما أجد في بدني قوة قطع المسافة، وإني بجز کفارہ مسیح کے نجات دینے میں اس کی کوئی نظیر نہیں پاؤ گے تمہارے دین کے لئے تو کفارہ مسیح کافی ہے اور تمہاری دنیا کے لئے یہ امیری مکتفی ہے ۔ فی ہے سو تم دونوں جہانوں میں محنت اور کوشش کرنے سے آزاد ہو گئے۔ ا و گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیرے حکم کے تابع ہیں اور ہمارے دل تیرے پاس ہیں اور آج تو ہماری نظر میں با مرتبہ اور امین آدمی ہے۔ کہا شاباش عنقریب تم پر خوشی کے دروازے کھلیں گے اور تمہیں دولت کی کنجیاں دی جائیں گی بلکہ میں تمہیں یہ منتر بھی سکھلا دوں گا تا میری عدم حاضری میں تمہیں کچھ تکلیف نہ پہنچے اور تا تمہیں ایک ایسی دولت ملے جو بہت بزرگ دولت ہے اور ایک ایسا ملک ملے جس کا انتہا نہیں انہوں نے کہا کہ ہم تیرا شکر نہیں کر سکتے تو سب احسان کرنے والوں سے بزرگ تر ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ تم یقیناً سمجھو کہ یہ عمل میں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں سکھایا اور نہ بعد تمہارے کسی کو سکھاؤں گا۔ پس انہوں نے اس تخصیص کا بھید اس سے دریافت کیا اور اس چمک کے محدود رکھنے کی حکمت پوچھی پس اس نے اس اقنوم کی قسم کھائی جو گناہ گار کو گناہ سے خلاصی بخشتا ہے کہ وہ اس عادت میں اقنوم ثانی سے مشابہ ہے۔ یعنے جیسے اقنوم ثانی نے حضرت عیسے سے پہلے کسی اور سے تعلق نہیں کیا نہ بعد میں کرے گا ایسا ہی اس نے اس قوم سے یہ تعلق پیدا کیا اور کہا کہ میں نے اقنوم ثانی کی طرح ہو کر تمہیں مسیح کی طرح اپنے تعلق سے خاص کر دیا ہے پھر اس نے اپنا دامن اکٹھا کیا تا کہ عقاب کی طرح اڑ جائے پس اس نے چلے جانے کی نیت سے صبح کی ایسی صبح کہ کبھی کوے نے بھی نہ کی ہو اور بھاگنے کے وقت ان کو کہنے لگا کہ اے شہروں کے سردار و اور ولائیتوں کے رئیسوں میں دو پہر تک تمہارے پاس آؤں گا سو تم نے کچھ تھوڑی سی میری انتظار کرنا اور تمہیں کچھ بے قراری نہ ہو کیونکہ منتر بہت لمبا ہے اور مطلب بہت بڑا ہے اور مراد بہت بڑی ہے اور طبیعت بیمار ہے اور دور جانا ہے اور سر دی بہت پڑتی ہے اور میر ادل نہیں چاہتا کہ اس ضعف اور