The Light of Truth — Page 174
174 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE أنعموا صباحًا، ثم قصوا عليهم القصة، وهنّأ وهم متبسّمين . فصدقوا قولهم الذين كانوا كمثلهم في الجهالة ونظيرهم في الضلالة، وكانوا يتغنون فرحين. فنزعوا الحلى من أعضاء نسائهم وآذان إمائهم وآناف بناتهم وأيدى أخواتهم وأرجل أمهاتهم، وأشركوا في تلك التجارة نساء أصدقائهم وأزواج أحبائهم، بل نسوان جيرانهم وعذارى أقرانهم، وغادروهن كأشجار خالية من ثمار وغادر كل أحد بيته أنقى من الراحة، طمعًا في كثرة المال وزيادة الراحة ثم رجعوا مستبشرين، ونبذوا الحلى أمام يديه فرحين. فلما رأى المكار امتلاء كيسه وانجلاء بؤسه، ورأى حمقهم وجهلهم، فرح فرحا شديدًا، ووجد نفسه غنيًّا صنديدًا، قال أعلم أنكم ذوو حظ عظيم ومن الفائزين، وستجتنون جَنَى عملكم وتعلون مطاجملكم، وتذكرونني إلى أبد الآبدين. ثم قال يا معشر الأخيار وأكباد هذه الديار، اعلموا أن هذا العمل من الأسرار، وقد وجب إخفاءها من الأغيار، ومن أشراط هذه الرقية قراءتها في الزاوية على شاطئ الوادي عند نهر جار في البادية، وكذلك علمت من المعلمين، فهل تأذنوننى أن أفعل كذا ، وأرجع إليكم بذهب كأمثال الربى، لترجعوا إلى شركائكم بمال ما رأته عين الناظرين؟ وسترون قناطيرًا مقنطرة من الذهب الخالص خوشی کے گانے لگے۔ پھر ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے اعضاء اور اپنی لونڈیوں کے کانوں اور اپنی بیٹیوں کے ناکوں اور اپنی بہنوں کے ہاتھوں اور اپنی ماؤں کے پیروں سے زیور اتارے اور اس تجارت میں ان لوگوں کو بھی شریک کر لیا جو ان کے دوستوں کی عور تیں اور ان کے آشناؤں کی بیویاں تھیں بلکہ اپنے ہمسائیوں کی عورتوں اور اپنے ہم مرتبہ لوگوں کی کنواریاں ' لڑکیوں کو بھی اس تجارت میں داخل کیا اور ان عورتوں کو ایسی حالت میں چھوڑا جیسا کہ درختوں سے پھل اتارا جاتا ہے اور ہر ایک نے اپنے گھر کو ہتھیلی کی طرح صفا چٹ چھوڑا اس طمع سے کہ مال بڑھے گا اور بہت آرام ہو گا پھر خوش خوش واپس آئے۔ اور آکر اس مکار کے آگے تمام زیور ڈال دیا اور اس حرکت کرنے کے وقت بہت خوش تھے پس جبکہ اس مکار نے دیکھا کہ اس کا تھیلا بھر گیا اور سختی جاتی رہی اور یہ بھی دیکھا کہ یہ لوگ کیسے احمق اور جاہل ہیں تو بہت ہی خوش ہوا اور اپنے تئیں ایک غنی رئیس کی طرح پایا کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ بڑے ہی خوش قسمت ہو اور ان میں سے ہو جو مراد پاتے ہیں اور عنقریب تم اپنے عمل کا پھل چنو گے اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گے اور ہمیشہ مجھے یاد رکھو گے۔ پھر کہنے لگا کہ اے نیکوں کے ٹولو اور اس ولایت کے جگر گوشو آپ لوگ یقیناً جانیں کہ یہ عمل اسرار میں سے ہے اور غیروں سے چھپانا اس کا واجب ہے اور اس کی شرطوں میں سے ہے جو اس کو گوشہ خلوت میں پڑھیں کسی جنگل کے کنارہ پر اس جنگل میں جہاں نہر بھی جاری ہو اور اسی طرح مجھے استادوں نے سکھلایا ہے۔ اب کیا آپ لوگ اجازت دیتے ہیں کہ میں ایسا ہی کروں اور ٹھیلوں کی طرح مال لے کر واپس آؤں تا تم وہ مال لے کر اپنے شریکوں کے پاس جاؤ جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور عنقریب تم ڈھیروں کے ڈھیر سونا اور خوبصورت مال دیکھو گے اور ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کنواری “ ہونا چاہیے۔ ناشر