The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 566

The Light of Truth — Page 170

170 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE في ذيل فضفاض، وتُفعِمون صناديقكم كما يفعم الماء في حياض، فتصبحون متنعمين؟ فرغبوا من حمقهم وشدة شحهم في الأموال، وقالوا مرحبًا لك تعال تعال، ودلنا إلى هذا المنوال، وإنا نفعل كل ما تأمر، ونحضر أينما تحضر، وستجدنا من المتمثلين الشاكرين. ففرح الخدعة في قلبه على قيد الصيد وإصابة الكيد، وعرف أنهم سقطوا في شبكته واغتروا بخديعته، وجاءوا تحت فخه بصفيره وزفرته، فكلّمهم بأحاديث ملفقة، وأكاذيب مزخرفة، وقال ما لى يأخذني رقة عليكم، ويهوى قلبي إليكم؟ لعل الله قدر لكم حظا فى منهلى، ونُزُلاً فى منزلى، وأراد أن يجعلكم من المتمولين. وقد كنتُ أعلم أنكم من أكرم جرثومة وأطهر أرومة، ومن أبناء بناة المجد وأرباب الجد، والآن أراكم بصفر اليد، فأُلقي في قلبي أن أرحمكم وأشفق عليكم، وأقوم لمواساتكم ودفع آفاتكم، وكذلك وقعت شيمتي، واستمرت عادتي. وخير الناس من ينفع الناس، ويعين ذوى الفاقات والمساكين. وستعججُمون عُودَ دعوای وحلاوة جناي، وإنّى لمن الصادقين. فكلوا هنيئًا مريئًا هذه المائدة الواردة، واستقبلوا هذه الدولة الحاردة، وخذوا تلك الغنيمة الباردة شاكرين. اور کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی آمدن کی راہ بتاؤں جو تمہیں ناداری کی حالت سے نجات بخشے اور تم اس سے بڑے مال ملک والے ہو جاؤ گے اور تمہارے باغ ہوں گے اور فاخرانہ کپڑوں میں لٹکتے پھرو گے اور روپیہ سے اپنے صندوق اس قدر بھر لو گے کہ جس طرح حوضوں میں پانی ہوتا ہے اور بڑے مالدار ہو جاؤ گے سو انہوں نے بے وقوف عیسائیوں کے دل اپنی حماقت اور لالچ کی وجہ سے ایسے مال لینے کے لئے للچائے اور کہا کہ مرحبا تشریف لائیے اور ہمیں ایسا راہ بتائیے اور ہم وہی کریں گے جو آپ فرمائیں گے اور جس جگہ حاضر ہونے کو کہو گے حاضر ہو جائیں گے اور ہم کو آپ فرمانبردار اور شکر گزار پاؤ گے۔ پس وہ مکار یہ باتیں سن کر اپنے دل میں بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ شکار مارا گیا اور فریب چل گیا اور وہ احمق اس کے دام میں پھنس گئے اور اس کے فریب میں آگئے اور اس کی سیٹی سن کر اس کے جال کے نیچے آ بیٹھے سو کہیں کی کہیں لگا کر جھوٹی باتیں سنانے لگا اور کہنے لگا کہ کیا سبب ہے کہ مجھ کو تم پر بڑا ہی رحم آتا ہے شاید خدا تعالیٰ نے میرے چشمہ میں تمہاری کچھ قسمت لکھی ہے اور میرے مہمان خانہ میں تمہاری مہمانی مقدر ہے اور شاید خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ تم کو مالدار کر دے۔ اور مجھے پہلے سے معلوم ہے کہ تم لوگ بڑے خاندان کے آدمی اور اصیل ہو اور نیز رئیسوں کے بیٹے اور دولت مندوں کی اولاد ہو اور اب میں تم کو افلاس کی حالت میں دیکھتا ہوں سو میرے دل میں ڈالا گیا جو میں تم پر رحم اور شفقت کروں اور تمہاری ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جاؤں اور اسی طرح میری عادت ہے کیونکہ نیک آدمی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاوے اور مسکین لوگوں کی مدد کرے۔ اور تم عنقریب میرے دعویٰ کی شاخ کا پھل آزمالو گے اور میرے پھل کی حلاوت تمہیں معلوم ہو جائے گی اور میں سچا ہوں سو تم اس کھانے کو جو اترا ہے خوب سیر ہو کر مزہ سے کھاؤ اور اس دولت کی طرف رخ کرو جس نے تمہاری طرف آنے کا قصد کیا اور اس مال مفت کو شکر کے ساتھ لے لو۔