The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 566

The Light of Truth — Page 168

168 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE والحداب، بل يسعى مستعجلا إلى ملامح السراب، بمجرد استماع قول الكذاب، وإذا بلغها فلا يجد إلا وادى التباب، فتضطرم نار العطش وتثب عليه كالذياب، ويحترق القلب كاحتراق الجلباب فيسقط على الأرض من غلبة الاضطراب، ويطير روحه كالطير ويلحق بالميتين. فمثل قوم اتكوا على الكفارة من كمال الجهل والغرارة، كمثل حمقى الذين كانوا من قوم متنصرين. طحطح بهم قلة المال وكثرة العيال، حتى كان الفقر حصادهم والتزب مهادهم، وطعامهم بعض الأفاني وسخناء هم كالشيخ الفاني، وكانوا من شدة بؤسهم مضطرين. فقيض القدر لنصبهم ووصبهم أن جاءهم شيخ شَخْتُ الخِلْقة، دقيق الشركة حقير السخنة، وكان توجد فيه آثار الخصاصة والافتقار، ويبين حاله الحذاء المرقّع وبلى الأطمار فدخل وعليه بُرْدانِ رنان، وفي يده سُبحة كسبحة الرهبان، وكان سائلا معترًا، وشَعِثًا مغبرا، قد لقى متربةً وضرَّا، حتى انثنى محقوقفًا مصفرا وكان لبسه كثير الانخراق بادى الإخر يراق، وكانت هيئته تشهد على أنه ما أصاب هلةً ولا بلةً، وإن هو إلا معروق العظم ومن الطالحين فوَلَجَ حَلْقتَهم بسوء حاله وأفانين مقاله، ليخدعهم بزخرفة محاله، فسلّم ثم كلم، وقال هل أدلكم إلى مكسب مال تنجيكم من إقلال، فتكونون ذوى أملاك ورياض، وترفلون دوڑتا ہے جو پانی کی طرح دکھلائی دیتی ہے اور ایک جھوٹے کی بات کو سن کر اعتبار کر لیتا ہے اور جب اس ریت پر پہنچتا ہے تو بجز ایک جنگل ہلاک کرنے والے کے اور کچھ نہیں پاتا تب اس وقت پیاس کی آگ بھڑکتی ہے اور اس پر بھیڑیوں کی طرح حملہ کرتی ہے اور اس کا دل ایسا جلتا ہے جیسا کہ ایک چادر کو آگ لگ جاتی ہے پس بے قرار ہو کر زمین پر گر پڑتا ہے اور اس کی روح پرند کی طرح پرواز کر جاتی ہے اور مردوں سے جا ملتی ہے۔ پس ان لوگوں کی مثال جو کفارہ پر اپنے جہل اور نادانی کی وجہ سے تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان لوگوں کی مانند ہیں جو ایک گروہ بے وقوف عیسائیوں کا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ وہ لوگ قلت مال اور کثرت عیال کی وجہ سے ایسے پریشان خاطر ہوئے کہ محتاجگی نے جس طرح کہ گھاس کاٹا جاتا ہے ان کو کاٹ دیا اور زمین ان کا بچھونا ہو گیا اور کھانا ان کا گھاس پات ہو گیا اور ان کی شکل مارے فاقوں کے بڑھوں کی سی ہو گئی اور اپنے فقر فاقہ سے وہ سخت محتاج ہوئے پس بُری تقدیر نے ان کے لئے یہ اتفاق پیش کیا کہ ایک دبلا سا بڑھا ان کے پاس آیا جس کے مکروں کی جالی بہت ہی باریک تھی اور وہ کچھ رو دار صورت نہیں تھا اور اس میں ناداری اور محتاجگی کے آثار نمایاں تھے اور اس کی پھٹی پرانی جوتی اور پرانی چادریں بتلا رہی تھیں کہ کس شان کا آدمی ہے پس وہ ان عیسائیوں کے گھر میں داخل ہوا ایسی حالت میں کہ دو پرانی چادریں اس پر تھیں اور ایک تسبیح ہاتھ میں جیسا کہ راہبوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دراصل وہ ایک محتاج پریشان حال تھا جو کمال درجہ کی محتاجگی تک پہنچ چکا تھا یہاں تک کہ وہ زرد رنگ اور خم پشت ہو گیا اور کپڑے جا بجا پھٹے ہوئے تھے جن کو وہ چھپا نہیں سکتا تھا اور اس کی صورت کہہ رہی تھی کہ ایک ادنی سی بہبودی بھی اس کو حاصل نہیں اور وہ ایک بد بختی کی حالت میں ہے سو اسی حالت میں وہ ان کے حلقہ میں داخل ہوا اور لگا باتیں بنانے تاکہ اپنی آراستہ کلام سے ان کو دھوکا دے سو اس نے پہلے تو سلام کیا اور پھر گفتگو شروع کی