The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 566

The Light of Truth — Page 166

166 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ترك الجنَّ عمدًا أو من النسيان، أو ما صلب ابنا ثانيًا مخافة بَتْرِه كالجبان. ومن المحتمل أن يكون الابن الآخر أحب من الابن الأول إلى الأب التَّوقان، وهذا ليس بعجيب عند ذوى الأذهان، فإنه قد يتفق أن الأصغر من الأبناء يكون أحبّ إلى الآباء . ففكّر فى هذه الآراء ، وفي إله هو ذو بنات وبنين. وسبحان ربنا عما يخرج من أفواه الظالمين. ثم بعد ذلك نزى أن آدم كان أول أبناء الله فى نوع الإنسان، وقد أقرت أناجيل النصارى بهذا البيان، ومن المعلوم أن الفضل للمتقدم لا للذى جاء بعده كالمضاهين. وقد خلق الله آدم بيده وعلى صورته، ونفخ فيه روحه بكمال محبته، وأما المسيح فما كان لبنة أول الأساس، بل جاء في أُخريات الناس، وكان من المتأخرين. ثم العجب أن إله النصارى ولد الابن ولم يلد البنات، كأنه عاف الأختان أو كره أن يصاهر إلا الصفتات، أو لم يجد كمثله الشرفاء السراة. فهل من أعجوبة في السكارى مثل أطروفة النصارى، أم هل رأيت مثلهم من المغلسين؟ والأصل الموجب الجالب إلى هذه العقيدة الفاسدة والأمتعة الكاسدة، انهماكهم فى الدنيا مع هجوم أنواع العصيان وشوق نعماء الجنان مع رجس الجنان. وأنت تعلم أن الشح يُعمى عين رؤية الصواب، فلا يفتش الشحيح العجول من الوهاد سے اس نے جنوں کے گروہ کو عمداً عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے لئے کوئی پھانسی پر نہ لٹکایا اور یہی گمان ہو سکتا ہے کہ چھوٹا بیٹا بڑے بیٹے سے زیادہ پیارا ہو اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ کبھی یہ بھی اتفاق ہو جاتا ہے کہ چھوٹا بڑے سے باپ کو زیادہ زیادہ پیارا ہوتا ہے پس اس بات میں فکر کر کہ جس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ہمارا خدا ان باتوں سے پاک ہے جو ظالموں کے منہ ۔ نکلتی ہیں۔ پھر بعد اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلا بیٹا تو نوع انسان میں سے آدم ہی تھا چنانچہ انجیلیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ بزرگی پہلے ہی کو ہوتی ہے اور وہ تو بزرگ نہیں کہلاتا جو پیچھے سے آوے اور پہلے کی ریس سے کوئی بات منہ پر لاوے اور خدا نے تو آدم کو اپنے ہاتھ سے اور اپنی صورت پر پیدا کیا تھا اور کمال محبت سے اس میں اپنا روح پھونکا مگر مسیح تو پہلی بنیاد کی اینٹ نہیں تھے بلکہ وہ تو آخری لوگوں میں آیا اور متاخرین میں سے کہلایا۔ پھر تعجب یہ ہے کہ نصاریٰ کے خدا نے بیٹا تو جنا مگر بیٹی کوئی نہیں جنی گویا اس نے دامادوں سے کراہت کی اور نہ چاہا کہ کوئی غیر کفو اس کا داماد ہو یا اپنے جیسا کوئی عزت دار نہ پایا جس کو لڑکی دیوے پس کیا عیسائیوں کے عقیدوں کے اعجوبہ کی طرح کوئی اور بھی اعجوبہ ہے یا ان کی مانند تو نے کوئی اور بھی اندھیرے میں رات میں چلتا دیکھا۔ اور اصل موجب جس نے عیسائیوں کو اس عقیدہ کی طرف کھینچا ان کا دنیا میں غرق ہونا ہے پھر اس کے ساتھ قسما قسم کے گناہ اور پھر دل کی پلیدی کے ساتھ آخرت کی نعمتوں کا شوق اور تو جانتا ہے کہ لالچ حق بینی کی آنکھ کو بند کر دیتا ہے پس لالچی اور شتاب کار آدمی نشیب فراز کو کچھ نہیں دیکھتا پس اس ریت کی طرف جلدی سے