The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 566

The Light of Truth — Page 164

164 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE والعجب من الابن أنه كان يعلم أن معشر الجن سَبَقَ الإِنسَ في الخطأ ولا ينتهجون محجة الاهتداء ، بل تجاوزوا الحد في شباءة الاعتداء ، ثم تغافل من أمر سياتهم، وما توجه إلى مواساتهم، وما شاء أن ينتفع الجن من كفارته، ويكون لهم حياة من إبارته ونجاة من نار أبدية التي أُعدت لهم، فما نفعهم إبارته ولا كفارته، وكانوا يؤمنون بالمسيح كما شهد عليه الإنجيل بالبيان الصريح، فكأنّ الابن ما دعا تلك المذنبين إلى هذا القرى وتقاعس كبخيل وضنين. ومن المحتمل أن يكون للأب ابن آخر، صُلب لتلك المعشر ، بل من الواجبات أن يكون كذلك لتنجية العصاة، فإنّ ابنَّا إِذا صُلِبَ لنوع الإنسان مع قلة العصيان، فكم من حرى أن يُصلب ابن آخر لنوع جني الذي ذنبهم أكبر وأكثر، وإلا فيلزم الترجيح بلا مُرجّح باليقين، ويثبت بخل الأب أو بخل البنين. ولا شك أن فكر مغفرة قوم عادين والتغافل من قوم آخرين، عُدول صريح وظلم مبين، بل يثبت من هذا جهل الأب المنان. أما كان يعلم أن المذنبين قومان، ولا يكفى لهم صليب بل اشتدت الحاجة إلى أن يكون ابنان وصليبان لا يقال إن الابن كان واحدا فرضى ليُصلب لنوع الإنسان، وما كان ابن آخر لكفارة أبناء الجان. لأنا نقول في جوابه إن الأب كان قادرًا على أن يلد ابنا آخر، وما كان كالعاجز الحيران، فلا ريب أنه اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنوں کا گروہ آدمیوں سے گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں پھر اس نے ان کے بارے میں تغافل کیا اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہ نہ کی اور نہ چاہا کہ اُس کے کفارہ سے جن کا گروہ فائدہ اٹھاوے اور ان کو اس ابدی عذاب سے نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے سو جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا حالانکہ وہ اس پر ایمان لاتے تھے جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس کفارہ کی مہانی کی طرف ان گناہ گاروں کو نہیں بلایا اور بخیلوں کی طرح تاخیر کی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ باپ کا کوئی اور بیٹا ہو جو جنوں کے لئے پھانسی دیا گیا ہو بلکہ یہ تو واجبات سے ہے کہ ایسے ہی ہو کیونکہ جب ایک بیٹا نوع انسان کے لئے جو تھوڑے . ہیں پھانسی دیا گیا پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنوں کے لئے پھانسی ملے جو گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی اور باپ اور بیٹوں کا بخل ثابت ہو گا اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر دوسری قوم سے تغافل صریح ظلم اور بیجا کارروائی ہے بلکہ اس سے تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گناہ گار لوگ دو قومیں ہیں صرف ایک قوم تو نہیں سو دو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں بلکہ کافی طور پر یہ مقصد تب پورا ہو سکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا یہ بات کہنے کے لائق نہیں کہ بیٹا تو صرف ایک ہی تھا وہ اسی پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاوے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اس بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ اس نے پہلا بیٹا جنا پس کچھ شک نہیں کہ